کراچی: صرافہ بازار ایسوسی ایشن کے مطابق، سونے کی فی تولہ قیمت میں 7 ہزار روپے کی کمی واقع ہوئی ہے اور یہ قیمت اب 4 لاکھ 23 ہزار 662 روپے پر آ گئی ہے۔ اسی طرح، 10 گرام سونا بھی 6 ہزار 2 روپے سستا ہو کر 3 لاکھ 63 ہزار 221 روپے پر پہنچ گیا ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز ملک میں سونے کی قیمتوں میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی تھی۔
ماہرین کے مطابق پاکستان میں سونے کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ عالمی سطح پر طلب و رسد اور روپے کی قدر کے ساتھ منسلک ہیں۔ جیوپولیٹیکل خطرات، معاشی سست روی اور مرکزی بینکوں کی جانب سے سونے کی خریداری میں اضافہ جیسے عوامل سونے کی قیمتوں میں اضافے کی اہم وجوہات ہیں۔ اس کے علاوہ امریکی شرح سود میں کمی کی توقع بھی سونے کی قیمت پر اثرانداز ہو رہی ہے۔
عالمی مالیاتی ادارے مورگن اسٹینلی نے اپنی حالیہ رپورٹ میں پیش گوئی کی ہے کہ آئندہ چند سالوں میں سونے کی قیمتیں نئی بلندیاں چھو سکتی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، 2026 کے وسط تک سونا 4,500 ڈالر فی اونس تک پہنچ سکتا ہے، جو اس وقت تقریباً 4,000 ڈالر فی اونس کے قریب ہے۔
مورگن اسٹینلی کا کہنا ہے کہ ایکسچینج ٹریڈڈ فنڈز (ETFs) اور مرکزی بینکوں کی خریداری سونے کی قیمتوں میں اضافے کی بنیادی وجوہات ہیں۔ عالمی اقتصادی غیر یقینی صورتحال نے بھی سرمایہ کاروں کو محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر سونا خریدنے پر مجبور کیا ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ سونے کی حالیہ قیمتوں میں تیزی نے اسے "اوور بوٹ" زون میں پہنچا دیا تھا، لیکن موجودہ کمی نے مارکیٹ کو متوازن اور صحت مند بنا دیا ہے۔ مستقبل میں امریکی شرح سود میں کمی کی توقع ہے جس کے باعث سونے سے جڑے ETFs میں مزید سرمایہ کاری اور مرکزی بینکوں کی خریداری کا سلسلہ جاری رہنے کی توقع ہے۔