Get Alerts

دہشتگردی سے بچاؤ کے لیے ہر پاکستان ریلوے ٹرین میں 3 جَیمر نصب کرنے کی ہدایت

دہشتگردی سے بچاؤ کے لیے ہر پاکستان ریلوے ٹرین میں 3 جَیمر نصب کرنے کی ہدایت

اسلام آباد:پارلیمانی کمیٹی نے پاکستان ریلوے کو ہدایت کی ہے کہ حساس علاقوں میں حفاظتی انتظامات کو مضبوط کرتے ہوئے ہر ٹرین میں کم از کم تین جَیمر نصب کیے جائیں تاکہ دہشتگرد حملوں سے مسافروں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

یہ ہدایت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے پاکستان ریلوے حکام کی جانب سے دی گئی بریفنگ کے بعد دی، جس میں 7 اکتوبر کو سندھ کے سلطان کوٹ ریلوے اسٹیشن کے قریب جعفر ایکسپریس پر دیسی ساختہ بم (آئی ای ڈی) حملے کی تفصیلات شامل تھیں۔ اس دھماکے میں پانچ بوگیاں پٹری سے اتر گئیں اور سات افراد زخمی ہوئے تھے۔

کمیٹی کے اجلاس کی صدارت چیئرمین کی غیر حاضری میں رمیش لال نے کی، جس میں جعفر ایکسپریس دھماکے کے علاوہ ریلوے کی زمینوں پر قبضوں اور کراچی-پپری فریٹ کوریڈور منصوبے پر بھی بریفنگ دی گئی۔

سیکریٹری پاکستان ریلوے نے بتایا کہ فریٹ کوریڈور منصوبہ کیماڑی سے شروع ہوگا اور کراچی پورٹ کو پپری سے منسلک کرے گا۔ اس منصوبے کے تحت دو نئی ریلوے لائنیں بچھائی جائیں گی جو موٹروے ایم نائن سے منسلک ہوں گی۔ منصوبے کی لاگت 40 کروڑ ڈالر ہے اور ابتدائی طور پر ٹرمینل محدود پیمانے پر کام کرے گا۔ توقع ہے کہ پہلا مرحلہ چھ ماہ میں مکمل ہو جائے گا اور روزانہ 17 فریٹ ٹرینیں چلائی جائیں گی۔

ڈویژنل سپرنٹنڈنٹ پاکستان ریلوے سکھر نے کمیٹی کو بتایا کہ ریلوے کی زمینوں پر قابضوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ سکھر میں 16,458 ایکڑ زمین آپریشنل استعمال میں ہے جبکہ 3,253 ایکڑ پر تجاوزات قائم ہیں اور 457 ایکڑ زمین پر بااثر قبضہ مافیا قابض ہے۔

ٹیگز: