لاہور:سینیٹر اور وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناءاللہ نے کہا ہے کہ غزہ میں حالیہ جنگ بندی میں پاکستان نے سفارتی سطح پر اہم کردار ادا کیا، جبکہ مسلم ممالک کی مشترکہ کوششوں سے خطے میں امن واپس آیا۔
لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناءاللہ نے خبردار کیا کہ اگر کسی نے پاکستان کی سالمیت پر حملہ کرنے کی کوشش کی تو اسے منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا، "پاکستان کسی کے ساتھ جنگ نہیں چاہتا، لیکن اگر کوئی جارحیت کرے گا تو اس کا حساب چکایا جائے گا، اور اب شاید سکور 0-6 نہ ہو، اس سے بھی آگے جا سکتا ہے۔
انہوں نے افغانستان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہمیشہ وہاں سے تکلیف ہی ملی ہے۔ ان کا کہنا تھا اب بہت ہو چکا، ہم مزید اپنے پیاروں کی لاشیں نہیں اٹھا سکتے، نہ ہی اپنے جوانوں اور افسروں کے جنازے۔ پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ دہشت گردی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ، "ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ اب کسی دہشت گرد گروہ سے مذاکرات نہیں ہوں گے۔ ایک طرف ہمارے لوگ شہید ہوں اور دوسری طرف بات چیت کی جائے، یہ ممکن نہیں۔
ٹی ایل پی کے مظاہروں پر تبصرہ کرتے ہوئے رانا ثناءاللہ نے کہا کہ جب بھی یہ جماعت احتجاج کرتی ہے، تشدد ہوتا ہے اور قیمتی جانوں کا ضیاع ہوتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) کا مؤقف ہے کہ کسی سیاسی جماعت پر پابندی لگانا جمہوری اصولوں کے خلاف ہے، تاہم اگر کوئی گروہ ملک میں افراتفری اور انتشار پھیلائے گا تو قانون حرکت میں آئے گا۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب حکومت نے کچھ اقدامات کی منظوری دے دی ہے اور اب وفاقی حکومت کو حتمی فیصلہ کرنا ہے۔
رانا ثناءاللہ نے طالبان پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ "گڈ اور بیڈ طالبان" کی پالیسی مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے، اور معرکۂ حق" میں دنیا نے پاکستان کی قربانیاں اور کامیابیاں دیکھ لی ہیں۔