دوہا: قطر نے عالمی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کی صدر جج ٹوموکو اکانے سے ملاقات کی ہے تاکہ اسرائیل کے خلاف گزشتہ ہفتے اس کی سرزمین پر ہونے والے حملے پر قانونی چارہ جوئی کے امکانات پر بات کی جا سکے۔
قطری مذاکراتی ٹیم کے سربراہ محمد الخلیفی نے بدھ کو ہیگ میں آئی سی سی کی صدر سے ملاقات کی، جو قطر کی جانب سے اسرائیل کی جانب سے کیے گئے مسلح حملے کے ذمہ داروں کو عدالت میں پیش کرنے کے لیے قانونی اور سفارتی اقدامات کا حصہ ہے۔
قطری حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ہے کہ اسرائیل کی جانب سے قطر پر کی گئی غیر قانونی کارروائیوں کا مؤثر جواب دیا جائے اور مجرموں کو عدالت کے سامنے لایا جائے۔
گزشتہ ہفتے کے اسرائیلی حملے نے خلیجی ریاستوں میں تشویش پیدا کر دی ہے، جو اپنی سیکیورٹی کے لیے طویل عرصے سے امریکہ پر انحصار کرتی رہی ہیں۔
ملاقات کے بعد محمد الخلیفی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر لکھا کہ یہ دورہ قطر کی ٹیم کی کوششوں کا حصہ ہے جو قانونی راستے تلاش کر رہی ہے تاکہ اسرائیل کی طرف سے کیے گئے غیر قانونی حملے کا مناسب جواب دیا جا سکے۔
واضح رہے کہ گزشتہ سال عالمی فوجداری عدالت نے غزہ میں اسرائیل کی جنگ کے دوران جنگی جرائم کے الزام میں اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کے خلاف کیس چلانا شروع کیا تھا، جس میں شہریوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنانے اور بھوک کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کے الزامات شامل ہیں۔
آئی سی سی نے اسرائیل کے سابق وزیر دفاع یوآو گیلنٹ اور حماس کے کمانڈر محمد دیف کی گرفتاری کا بھی مطالبہ کیا تھا، جن کی موت اسرائیل نے بعد میں تسلیم کی۔
یاد رہے کہ اکتوبر 2023 سے اب تک اسرائیلی حملوں میں کم از کم 65,141 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔