ڈھاکا: بنگلہ دیش میں معروف طلبہ رہنما اور انقلاب منچا کے ترجمان شریف عثمان ہادی کی قاتلانہ حملے میں انتقال کے بعد ملک بھر میں شدید احتجاج اور پرتشدد مظاہروں کا آغاز ہو گیا ہے۔ عثمان ہادی کو گزشتہ جمعے کو ڈھاکا میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے شدید زخمی کر دیا تھا، جس کے بعد انہیں سنگاپور منتقل کیا گیا، جہاں وہ دوران علاج انتقال کر گئے۔
مظاہرین نے عثمان ہادی کے قتل کے خلاف شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل کر عوامی لیگ اور میڈیا اداروں کے دفاتر کو آگ لگا دی، توڑ پھوڑ کی اور اہم سڑکوں کو بند کر دیا۔ اس دوران، سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں کی بھی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ وہ انصاف کی فراہمی تک احتجاج جاری رکھیں گے اور عثمان ہادی کے قاتلوں کو فوری طور پر سزا دلوانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
راجدھانی ڈھاکا کے علاوہ، راجشاہی میں بھی مظاہرین نے شیخ مجیب الرحمان کی رہائش گاہ کو نذر آتش کیا۔ حکام نے مظاہروں کے پیش نظر سکیورٹی کو مزید سخت کر دیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ عثمان ہادی پر حملے میں ملوث افراد کی شناخت فیصل کریم مسعود اور عالمگیر شیخ کے نام سے کی گئی ہے۔ یہ دونوں مشتبہ افراد بھارت کی سرحد سے غیرقانونی طور پر بنگلہ دیش میں داخل ہوئے تھے اور حملے کے بعد بھارت فرار ہو گئے۔
عثمان ہادی، جو کہ گزشتہ جولائی میں حسینہ واجد حکومت کے خلاف طلبہ تحریک کا اہم حصہ تھے، کے قتل کے بعد ملک میں سیاسی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ حکومتی ردعمل اور انصاف کی فراہمی پر عوام کی نظریں ہیں، جبکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کی جانب سے اس واقعے کی تحقیقات کی شفافیت پر زور دیا جا رہا ہے۔