Get Alerts

ممکنہ جنگ کی تیاریاں؟ ایران نے اپنے حساس ترین ٹھکانوں کو زمین دوز کرنا شروع کر دیا، عالمی میڈیا کا دعویٰ

ممکنہ جنگ کی تیاریاں؟ ایران نے اپنے حساس ترین ٹھکانوں کو زمین دوز کرنا شروع کر دیا، عالمی میڈیا کا دعویٰ

تہران/نیویارک : امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں ایران نے اپنے سٹریٹجک فوجی اثاثوں اور جوہری تنصیبات کو ممکنہ فضائی حملوں سے بچانے کے لیے 'قلعہ بندی' کا عمل تیز کر دیا ہے۔ 'رائٹرز' کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین سیٹلائٹ تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایران اپنے حساس مقامات کو زمین دوز کرنے اور انہیں کنکریٹ کے حفاظتی ڈھانچوں سے ڈھانپنے میں مصروف ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایران اپنی دفاعی حکمتِ عملی میں درج ذیل بڑی تبدیلیاں لا رہا ہے۔  نطنز اور اصفہان کی جوہری سائٹس پر سرنگوں کے داخلی راستوں کو جدید انجینئرنگ کے ذریعے مزید مضبوط اور خفیہ بنایا جا رہا ہے تاکہ بنکر بسٹر بموں کا مقابلہ کیا جا سکے۔قم اور شیراز کے قریب واقع بیلسٹک میزائل اڈوں پر بمباری سے متاثرہ عمارتوں کی تعمیرِ نو کی گئی ہے اور ان پر نئی حفاظتی چھتیں نصب کر دی گئی ہیں۔
     نطنز کے قریب ایک پہاڑی کے نیچے بڑے پیمانے پر کھدائی اور سرنگوں کی مضبوطی کا کام جاری ہے تاکہ حساس ترین آلات کو وہاں منتقل کیا جا سکے۔
    پارچین کمپلیکس: تہران سے 30 کلومیٹر دور واقع اس حساس فوجی اڈے پر قلعہ بندی کے غیر معمولی آثار ملے ہیں۔
    اصفہان پلانٹ: یہاں یورینیم کی افزودگی کا اہم مرکز موجود ہے، جس کے زیرِ زمین حصے کو مزید محفوظ بنایا گیا ہے۔
    بیلسٹک میزائل بیس: شیراز کے قریب واقع اڈے کی سطحِ زمین کو مضبوط کیا گیا ہے جہاں سے درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے میزائل فائر کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ ایران کی یہ ہنگامی تعمیرات اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ امریکہ کے ساتھ کسی بھی ممکنہ جنگ میں اپنی 'بیک بون' (میزائل اور جوہری صلاحیت) کو تباہ ہونے سے بچانا چاہتا ہے۔ کنکریٹ کے بھاری ڈھانچے اور زیرِ زمین منتقلی اس بات کی علامت ہے کہ تہران اپنی دفاعی پوزیشن کو ناقابلِ تسخیر بنانے کے مشن پر ہے۔

ٹیگز: