تحریر: طارق وسیم
کراچی میں ایک اور سانحہ ہوا ہے ایک مرتبہ پھر معصوم انسان لقمہ اجل بن گئے ہیں۔ گل پلازا میں رپورٹ کے مطابق متعدد افراد جان سے گئے اور 70 کے قریب لاپتہ بتائے جارہے ہیں۔ نجانے جاں بحق ہونے والوں کی تعداد کہاں جا کر رکے گی ،دعا ہی کی جا سکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ سب کو اپنی حفظ و امان میں رکھے ،لیکن کیا دعاؤں کے سہارے 3 کروڑ آبادی کا شہر مینج کیا جا سکتا ہے ۔ایک ایسا شہر جہاں ڈومیسٹک اور کمرشل دونوں علاقوں میں آتشزدگی کے واقعات دنیابھر سے زیادہ ہیں ،ایک محتاط اندازے کے مطابق گزشتہ ایک دہائی میں کراچی میں چار ہزار سے زیادہ آگ لگنے کے واقعات پیش آئے ہیں جو سارے یورپ میں دس سال کے آتشزدگی کے واقعات سے زیادہ ہیں ، ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ سانحہ بلدیہ ٹاؤن کے بعد ہی ،حکومت اور اہل کراچی کے دل دہل جاتے۔
شہر میں ٹاؤن پلاننگ کو فروغ دیا جاتا اور کسی بھی نئی تعمیر کو سختی سے مانیٹرکیا جاتا لیکن دو قومی نظریے کی عملی تصویر کراچی شاہ رخ جتوئیوں کا شہر ہے ۔کسی کو اردو سپیکنگ ہونے کا دکھ ہے تو کوئی سندھی قوم سے ہونے والی زیادتیوں پر شکوہ کناں ہے اور کوئی پختونوں کی بڑھتی تعداد پر جز بز ہو رہا ہے،شہر میں ایک دو ایسی اقوام بھی آباد ہیں جو خود کو بہت کاروباری ذہنیت کی حامل قرار دیتی ہیں لیکن حالت یہ ہے کہ بہی کھاتہ بنانا نہیں آتا ۔
ایک جگہ سے مال اٹھا کر اپنی دکان پر رکھ کر بیچ دینے والی کمیشن ایجنٹی کو کاروباری صلاحیت قرار دیا جاتا ہے،جیسے ہی کسی کی جیب میں چار سکے زیادہ آجاتے ہیں، وہ بنکر نما پلازے بنانا شروع کر دیتا ہے ، جن میں نہ تو کوئی ہنگامی اخراج ہوتا ہے ،نہ تازہ ہوا کے آنے بندو بست ،بس ہوتا ہے دکانوں میں رکھا ہو مال ،گاہک اور کمیشن ،نہ کوئی حکومتی ادارہ پوچھنے آتا ہے نہ کسی تاجر تنظیم کو فکر ہوتی ہے کہ ایک ہزار سے زائد دکانیں بن گئی ہیں۔ ان کی مینجمنٹ کیسے کی جائے گی ۔ کوئی ایمر جنسی ہو گئی تو انسانوں کی جان اور دکانوں کا مال کیسے بچایا جا ئے گا ؟۔ دنیا میں کراچی کے علاوہ تین کروڑ سے زائد آبادی والے چار شہراور بھی ہیں ،نئی دہلی ،ٹوکیو،شنگھائی اور کولکتہ۔ آپ ان چاروں میں گزشتہ دس برس میں ہونے والے آتشزدگی کے واقعات پر نظر دوڑائیں،، تو وہاں اجتماعی طور پر اتنی مرتبہ آگ نہیں لگی ہو گی جتنی مرتبہ صرف کراچی میں لگ چکی ہے ۔
کچھ واقعات تو کراچی سے تعلق رکھنے والی ایک سیاسی جماعت کے سابق سربراہ سے بھی منسوب کیے جاتے ہیں ،کوئی بھتے سے انکار کرتا تو اس کے کارخانے میں آگ لگ جاتی تھی ،چائنہ کٹنگ کے نام پر شہر کی زمینوں پر قبضے ہوتے تھے ،لیکن اب تو شہر میں اس جماعت کاکوئی نام لیوا نہیں ہے۔ پچھلے پندرہ برس سے کراچی پر جمہوریت کے چیپمیئنز کی حکومت ہے، لیکن یوں لگتا ہے کہ ڈیفنس ، ناظم آباد اور کلفٹن کے لوگوں کی نسل پروان چڑھانے کے لیے لالو کھیت ، کورنگی ، اورنگی سہراب گوٹھ اور دیگر لوئر مڈل کلاس یا غریب آبادیوں کے جمہور کی نسل کشی کی جا رہی ہے۔
دو قومی نظریے کی عملی تصویر کراچی شہر کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جماعت اسلامی اس کے بنیادی مسائل اچھی طرح سمجھتی ہے۔ جماعت اسلامی احتجاجی سیاست کی ماسٹر بھی ہے لیکن نجانے کیوں کراچی کےکاروباری مراکز ،غیر محفوظ پلازوں اور چائنہ کٹنگ کے خلاف احتجاج ہی نہیں کرتی۔بھٹو کے وارث اردو بولنے والی اکثریت کو سیریس لینے کے لیے تیار نہیں ہیں ۔انسانی جانوں کےضیاع کو معمول کی کارروائی سمجھتے ہیں۔ کراچی سب سے زیادہ ٹیکس دینے والا شہر ہے ،ملک کی واحد بندرگاہ ہے ،رقبے کے لحاظ سے ایک چھوٹے موٹے ملک کے برابر ہے ،اگر صوبائی حکومتیں اس کو مینج نہیں کر سکتیں تو وفاق کو چاہیے نئے صوبوں کے قیام کاآغاز کراچی سے کرے ۔ شہر کو علیحدہ صوبہ قرار دے اور ایمر جنسی لگا کر اس کی بحالی کا کام شروع کر دے۔ تین سے پانچ سال میں یہ شہر دبئی اور سنگا پور سے بہتر نظر آنے لگے گا ،لیکن اس کے لیے اس شہر سے وابستہ ان تمام جونکوں کو سر کچلنا ہوں گے ،جو یہاں کی مڈل اور لوئر مڈل کلاس کا خون پی پی کر ایلیٹ کلاس بن چکی ہیں۔
نوٹ: neonews.pkاوراس کی پالیسی کا کالم نگار/بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے

طارق وسیم پاکستان بالخصوص لاہور کی صحافت میں جانا پہچانا نام ہے دو دہائی قبل انگریزی جرنلزم سے کیریئر کا آغاز کرنے والے طارق وسیم نے براڈ کاسٹ جرنلزم میں بطور رپورٹر،اینکر اور نیوز ڈیپارٹمنٹ میں اپنی منفرد پہچان بنائی ہے۔