Get Alerts

برطانوی ماہرین کا 3 افراد کے ڈی این اے سے 8 صحت مند بچوں کی پیدائش کا انکشاف

برطانوی ماہرین کا 3 افراد کے ڈی این اے سے 8 صحت مند بچوں کی پیدائش کا انکشاف

لندن: برطانیہ اور آسٹریلیا کے سائنسدانوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے ایسے آٹھ بچوں کی کامیاب پیدائش مکمل کی ہے جن میں موروثی اور جان لیوا بیماری مائٹوکونڈریا کا کوئی اثر نہیں پایا گیا۔

سی این این کی رپورٹ کے مطابق، اس انقلابی طبی عمل کو "تھری پرسن آئی وی ایف" کہا جاتا ہے، جس میں بچے کے جینیاتی مواد میں ایک مرد اور دو خواتین کا ڈی این اے شامل ہوتا ہے۔ یہ تکنیک ان خواتین کے لیے استعمال کی جاتی ہے جن کے مائٹوکونڈریا خراب ہوتے ہیں اور بچوں کو مہلک بیماریوں میں مبتلا کر سکتے ہیں۔

طریقہ کار کے تحت، ماں کے انڈے سے بنیادی جینیاتی مواد نکال کر صحت مند خاتون کے انڈے میں منتقل کیا جاتا ہے، جس کا مائٹوکونڈریا بالکل درست ہوتا ہے۔ یوں پیدا ہونے والے بچے میں ماں، باپ اور ڈونر تینوں کے جینیاتی اجزا شامل ہوتے ہیں، لیکن بچہ مکمل طور پر تندرست ہوتا ہے۔

ماہرین کے مطابق، اس کامیابی سے ایسے والدین کو امید ملی ہے جو بچوں میں منتقل ہونے والی جینیاتی بیماریوں سے خوفزدہ تھے۔ ماہرین نے بتایا کہ ان آٹھ بچوں میں سے صرف ایک میں معمولی سا اثر پایا گیا، جو نقصان دہ نہیں ہے۔

برطانیہ میں 2016 میں قانون تبدیل ہونے کے بعد یہ طریقہ اختیار کیا جا رہا ہے اور اب تک 35 جوڑوں کو اس تکنیک سے فائدہ پہنچانے کی اجازت دی گئی ہے۔ تاہم امریکا اور دیگر کئی ممالک میں اس پر تاحال پابندی ہے۔

 
 

ٹیگز: