جنیوا : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ سنسنی خیز بیانات کے بعد ایران کے معاملے کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔ اس سلسلے میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس طلب کیا گیا ہے، جس کی درخواست ایران نے کی تھی۔ اس اجلاس کا انعقاد جمعہ کو ہوگا، اور اس میں ایران کی صورتحال پر تفصیلی بات چیت کی جائے گی۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق، ایران کی درخواست کو پاکستان، چین اور روس کی حمایت حاصل ہے، جو اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ عالمی سطح پر اس مسئلے کے حل کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے۔
ایران سے جوہری مسئلے پر یورپی وزرائے خارجہ بھی بات چیت کریں گے۔ جرمنی، فرانس اور برطانیہ کے وزرائے خارجہ جمعہ کو جنیوا میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ مذاکرات کریں گے۔ اس بات چیت کے بعد ماہرین کی سطح پر اسٹرکچرڈ ڈائیلاگ بھی کیا جائے گا تاکہ اس مسئلے کا پائیدار حل نکالا جا سکے۔
خبر ایجنسی کے مطابق، جنیوا میں یورپی وزرائے خارجہ کی ایرانی ہم منصب سے ملاقات پر امریکہ نے بھی اتفاق کیا ہے، جو اس بات کا غماز ہے کہ عالمی طاقتیں اس معاملے پر مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔
یہ تمام اقدامات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ کے خطرات کو بات چیت کے ذریعے کم کرنے کی پوری کوشش کی جا رہی ہے، اور عالمی برادری اس معاملے کو سفارتکاری اور مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی خواہشمند ہے۔