سری نگر:عالمی امن انڈیکس (GPI) 2025 میں بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر (IIOJK) کو دنیا کا ایک نمایاں کشیدگی کا مرکز قرار دیا گیا ہے، جہاں اگلے برس کے دوران بڑے پیمانے پر تصادم کا خطرہ سنگین حد تک بڑھ چکا ہے۔انسٹیٹیوٹ فار اکنامکس اینڈ پیس (IEP) کی جانب سے جاری کردہ سالانہ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ کشمیر تنازعہ میں تیزی سے بگاڑ پیدا ہو سکتا ہے۔ رپورٹ میں استعمال ہونے والے خطرہ پیمائی اشاریوں کے مطابق، یہ علاقہ کسی بھی لمحے شدید تصادم میں بدل سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، 7 سے 10 مئی کے درمیان ہونے والی چار روزہ فوجی جھڑپ حالیہ برسوں کی سب سے خونریز کشیدگی تھی، جس نے دنیا بھر میں اس مسئلے کی سنگینی کو اجاگر کر دیا۔اگرچہ جی پی آئی کے مطابق ایٹمی تصادم کا امکان انتہائی کم ہے، لیکن روایتی جنگ کے امکانات بدستور موجود ہیں، جو نہ صرف میدان جنگ میں بھاری جانی و مالی نقصان کا سبب بن سکتی ہے، بلکہ اس کا دائرہ کار کشمیر سے نکل کر خطے کے دیگر حصوں تک پھیل سکتا ہے۔
رپورٹ میں اس امر پر زور دیا گیا ہے کہ IIOJK مسلسل ایسے عوامل کی زد میں ہے، جن سے اچانک بغاوت یا جنگ بھڑک سکتی ہے، خصوصاً دہشت گرد حملوں یا جوابی کارروائیوں کے بعد۔ ماضی میں ایسے واقعات اکثر عالمی سفارتی دباؤ اور مداخلت کی وجہ بنے ہیں تاکہ کشیدگی کو وسیع تر جنگ میں بدلنے سے روکا جا سکے۔مزید یہ کہ کسی بھی کشیدگی کے ساتھ ساتھ ثانوی خطرات بھی موجود ہیں، جیسے کہ بھارت میں مسلمانوں پر تشدد میں اضافہ ہورہا ہے۔ پاکستان میں بلوچ علیحدگی پسندوں یا ٹی ٹی پی کی کارروائیوں میں شدت آرہی ہے۔ داخلی عدم استحکام کا پھیلاؤ جاری ہے۔
GPI 2025 میں پاکستان کو 163 ممالک میں سے 144ویں نمبر پر رکھا گیا ہے۔ رپورٹ میں پاکستان میں "شہری بے چینی، سرحدی کشیدگی اور فوجی اخراجات میں نمایاں اضافے" کو امن کے زوال کی بڑی وجوہات قرار دیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق جنوبی ایشیا نے پچھلے سال کے دوران دنیا بھر میں امن کی صورتحال میں سب سے زیادہ گراوٹ دیکھی۔یہ زوال بنیادی طور پر پاکستان میں عدم استحکام اور بنگلہ دیش میں ریاستی جبر میں اضافے کے باعث ہوا۔
رپورٹ کے مطابق 2024 کے دوران دنیا بھر میں تشدد سے پیدا ہونے والی معاشی لاگت کا تخمینہ 19.97 ٹریلین امریکی ڈالر لگایا گیا جو کہ عالمی جی ڈی پی کا 11.6 فیصد بنتا ہے۔ترقی پذیر ممالک، بالخصوص پاکستان کے لیے، بڑھتے ہوئے دفاعی اخراجات کا مطلب یہ ہے کہ صحت، تعلیم اور موسمیاتی پائیداری جیسے اہم شعبے وسائل کی کمی کا شکار ہو سکتے ہیں۔گلوبل پیس انڈیکس کا یہ انیسواں ایڈیشن ہے، جو امن کے 23 اشاریے تین بڑے شعبوں میں ناپتا ہے۔
2025 کی رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ پچھلے 17 سال میں 13 بار عالمی امن میں زوال آیا ہے۔اس سال 87 ممالک میں امن کی صورتحال بگڑی جبکہ صرف 74 ممالک میں بہتری دیکھنے میں آئی۔آئس لینڈ 2008 سے بدستور دنیا کا سب سے پرامن ملک قرار دیا گیا ہے۔
انسٹیٹیوٹ فار اکنامکس اینڈ پیس نے زور دیا ہے کہ جب تک ممالک بالخصوص پاکستان، ادارہ جاتی، سماجی اور اقتصادی سطح پر استحکام کی طرف توجہ نہیں دیتے، اندرونی بحران اور علاقائی تصادم مزید گہرے ہو سکتے ہیں۔