اسلام آباد :جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ اور سینئر پارلیمانی رہنما مولانا فضل الرحمان نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کو سوچ سمجھ کر پالیسیاں بنانا ہوں گی تاکہ امن، استحکام اور خودمختاری کو یقینی بنایا جائے۔انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کو ایران کے ساتھ کھل کر اظہارِ یکجہتی کرنا چاہیے، خصوصاً ایسے وقت میں جب اسرائیل مشرق وسطیٰ میں مسلسل جارحیت کر رہا ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے اپنے خطاب میں کہااسرائیل کی وحشیانہ بمباری سے 60 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، اور غزہ کے نہتے عوام پر ظلم و ستم جاری ہے۔ اس نازک وقت میں پاکستان کو فلسطینیوں کے ساتھ کھل کر کھڑا ہونا چاہیے۔
انہوں نے مسلم دنیا کی خاموشی پر بھی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ وقت امّتِ مسلمہ کے اجتماعی ضمیر کو جھنجھوڑنے کا ہے۔
???? “یہود و ہنود ایک دوسرے کے اتحادی بن چکے ہیں۔مولانا کا کہنا تھا کہ اسرائیل نہ صرف فلسطین، بلکہ شام اور لبنان پر بھی حملے کر چکا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ آج یہود و ہنود (اسرائیل اور بھارت) عالمی سطح پر اتحادی کے طور پر کام کر رہے ہیں، جن کا مقصد مسلم ممالک کو غیر مستحکم کرنا ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ 2001 میں نائن الیون کے بعد دنیا میں جو خونریزی شروع ہوئی، اُس نے کئی مسلم ممالک کو کھنڈر بنا دیا۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے شمار قربانیاں دی ہیں، جنہیں عالمی برادری نے آج تک تسلیم نہیں کیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے نہ صرف اپنی افواج، بلکہ عوام، معیشت اور سماج کی سطح پر شدید نقصان برداشت کیا ہے، اور اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی خارجہ پالیسی کو خودداری اور ہمسائیگی پر مبنی بنیادوں پر استوار کریں۔