Get Alerts

بلوچستان میں انتہا پسندی کا نیا رخ: بی وائے سی (BYC) پر بی ایل اے کے لیے 'بھرتی مرکز' ہونے کا الزام

بلوچستان میں انتہا پسندی کا نیا رخ: بی وائے سی (BYC) پر بی ایل اے کے لیے 'بھرتی مرکز' ہونے کا الزام

کوئٹہ / کراچی: بلوچستان کی دہائیوں پرانی شورش میں حالیہ برسوں کے دوران خواتین کے خودکش حملوں میں اچانک اضافے نے سکیورٹی ماہرین اور تجزیہ کاروں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ دستیاب شواہد اور حالیہ واقعات کے تناظر میں یہ سنگین انکشافات سامنے آئے ہیں کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) بظاہر انسانی حقوق اور لاپتہ افراد کی آڑ میں کام کر رہی ہے، مگر پسِ پردہ یہ بلوچ لبریشن آرمی (BLA) کے لیے ایک "بھرتی مرکز" (Recruitment Nursery) کا کردار ادا کر رہی ہے۔
رپورٹس کے مطابق،  1947 سے جاری بلوچستان کی شورش میں 2020 تک کسی خاتون کی جانب سے خودکش حملے کی کوئی روایت موجود نہیں تھی۔ تاہم، 2020 میں بی وائے سی کے قیام کے محض دو سال بعد، 2022 میں اعلیٰ تعلیم یافتہ خاتون شاری بلوچ نے کراچی یونیورسٹی میں خودکش حملہ کر کے اس ہولناک سلسلے کا آغاز کیا۔
اس کے بعد سمعیہ قلندرانی، ماہکان بلوچ، ماہل بلوچ، زرینہ رفیق، ہوا بلوچ اور آسیہ مینگل جیسی خواتین کے نام سامنے آئے جو یا تو خودکش حملوں میں ملوث پائی گئیں یا اس نیٹ ورک کا حصہ رہیں۔ اس وقت بھی درجنوں خواتین بی ایل اے کے تربیتی کیمپوں میں موجود ہیں، جن کی ٹریننگ ویڈیوز خود تنظیم کی جانب سے جاری کی جاتی ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بی وائے سی کے پلیٹ فارم سے صبیحہ بلوچ اور دیگر رہنماؤں کی تقاریر میں ریاستِ پاکستان کو مستقل طور پر "قابض اور ظالم" قوت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ یہ بیانیہ نوجوان خواتین اور کم عمر بچوں کے ذہنوں میں ریاست کے خلاف نفرت بھرنے کے لیے استعمال ہو رہا ہے، جو براہِ راست عسکریت پسندی کی راہ ہموار کرتا ہے۔
ریکارڈ پر موجود حقائق کے مطابق، جن خواتین نے اب تک خودکش حملے کیے، ان کا کسی نہ کسی سطح پر بی وائے سی کے احتجاجی کیمپوں یا ان کے پرچار کردہ بیانیے سے گہرا تعلق رہا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ   "بی وائے سی وہ 'خام مال' فراہم کرتی ہے جسے بی ایل اے کا خطرناک 'مجید بریگیڈ' بارود میں تبدیل کر کے معصوم ذہنوں کو خودکش حملوں کے لیے استعمال کرتا ہے۔
سکیورٹی حلقوں کا موقف ہے کہ انسانی حقوق کا لبادہ اوڑھ کر کی جانے والی یہ سیاست دراصل بلوچ خواتین کے استحصال کی ایک نئی اور خطرناک شکل ہے، جہاں ان کے جذبات کو ریاست کے خلاف جنگی ایندھن کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔

ٹیگز: