اسلام آباد: سینیٹ میں قائد حزب اختلاف سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ حکومت نے قومی اہمیت کے معاملے پر اپوزیشن کو سائیڈ لائن کر کے جمہوری اقدار کی خلاف ورزی اور ایک نئی منفی روایت قائم کی ہے۔
سینیٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے شبلی فراز نے کہا کہ بھارت کے حملوں کے بعد پوری قوم یکجا ہوئی، مگر حکومت نے اس موقع پر بھی اپوزیشن کو اعتماد میں لینے سے گریز کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا مؤقف عالمی سطح پر مؤثر انداز میں پیش کرنے کے لیے حکومت کی جانب سے وفود بھیجنے کا فیصلہ خوش آئند ہے، لیکن اس مقصد کے لیے قائم کمیٹی میں اپوزیشن کا کوئی نمائندہ شامل نہیں کیا گیا۔
شبلی فراز نے کہا کہ ایوان کی سب سے بڑی اپوزیشن پارٹی کو کمیٹی سے باہر رکھنا تنگ نظری کی علامت ہے۔ انہوں نے حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ اپوزیشن کو قومی معاملات سے دور رکھ کر یکطرفہ فیصلے مسلط کرنا چاہتی ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ بھارت میں اپوزیشن جماعت کانگریس کے رہنماؤں کو اہم قومی معاملات پر کمیٹیوں میں شامل کیا جاتا ہے، جبکہ یہاں اپوزیشن کو یکسر نظرانداز کر کے فیصلہ سازی کی جا رہی ہے۔
شبلی فراز نے اعلان کیا کہ اگر حکومت اپوزیشن کو نظر انداز کرتی رہی تو وہ اپنی جماعت کے ارکان کو اپنے وسائل سے بیرونِ ملک بھیج کر پاکستان کا مؤقف دنیا کے سامنے رکھیں گے۔
انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ قومی وحدت کو برقرار رکھتے ہوئے اپوزیشن کو بھی فیصلہ سازی میں شامل کرے، تاکہ عالمی سطح پر پاکستان کا مؤقف مضبوط اور متحد نظر آئے۔