اسلام آباد : عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے پاکستان کے ذمے قرضوں کے حوالے سے نئی گائیڈ لائنز جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ملک میں قرضوں کی قانونی حد کی خلاف ورزی کا تسلسل برقرار ہے۔ آئی ایم ایف کے مطابق، معاشی دباؤ کے باعث ملکی قرضوں کی شرح جی ڈی پی کے 72.8 فیصد کی تشویشناک سطح پر پہنچ چکی ہے، جبکہ پاکستان کے اپنے مروجہ قوانین کے تحت اس کی زیادہ سے زیادہ حد 60 فیصد مقرر کی گئی تھی۔
نمائندہ نیو نیوز اسلام آباد تو صیف عباسی کاکہنا ہے کہ عالمی ادارے نے ہنگامی معاشی اشاریوں کی روشنی میں پیشگوئی کی ہے کہ اگلے مالی سال کے دوران بھی قرضوں کا یہ گراف نمایاں طور پر نیچے نہیں آئے گا اور اس کی شرح 67 فیصد سے زائد رہنے کا امکان ہے۔ اس کے برعکس، حکومتِ پاکستان نے طویل مدتی لائحہ عمل طے کر رکھا ہے جس کے تحت سال 2034 تک قرضوں کے اس بوجھ کو کم کر کے 55.7 فیصد پر لانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
آئی ایم ایف نے پاکستان کو قرضوں کے اس بھاری بوجھ سے مستقل نجات پانے کے لیے کڑے اور فوری اقدامات کا مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے پاکستان کو اب روایتی پالیسیوں سے ہٹ کر جامع ٹیکس اصلاحات متعارف کروانا ہوں گی، سرکاری و حکومتی سطح پر اخراجات میں بڑی کٹوتی کرنا ہوگی اور توانائی کے شعبے (بجلی و گیس) میں جاری خسارے اور گردشی قرضوں کے خاتمے کے لیے سخت ترین فیصلے کرنا ہوں گے۔
مالیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کی اس حالیہ رپورٹ کے بعد وزارتِ خزانہ پر ٹیکس نیٹ کو بڑھانے اور غیر ضروری سبسڈیز کو ختم کرنے کا دباؤ مزید بڑھ گیا ہے، تاکہ ملکی معیشت کو دیوالیہ پن کے خطرات سے مستقل دور رکھا جا سکے۔