Get Alerts

اقوام متحدہ میں پاکستان کی قرارداد برائے حق خود ارادیت متفقہ طور پر منظور

اقوام متحدہ میں پاکستان کی قرارداد برائے حق خود ارادیت متفقہ طور پر منظور

نیویارک: اقوام متحدہ کی ایک کمیٹی نے اتفاق رائے سے پاکستان کی ایک قرارداد منظور کر لی ہے، جس میں ان اقوام اور عوام کے حق خود ارادیت کے جامع عزم کو دوبارہ اجاگر کیا گیا ہے جو ابھی تک نوآبادیاتی، غیر ملکی اور اجنبی تسلط کے تحت ہیں۔ اس قرارداد کو 65 ممالک کی مشترکہ حمایت حاصل تھی اور یہ پاکستان کے مستقل مندوب برائے اقوامِ متحدہ، سفیر عاصم افتخار احمد کی جانب سے پیش کی گئی۔

پاکستان نے اس موقع پر واضح کیا کہ اقوام متحدہ اپنے مقاصد اور اصولوں کے مرکز میں اس حق کو رکھتی ہے۔ یہ قرارداد دنیا بھر میں ان عوام کی جدوجہد کی طرف توجہ مبذول کراتی ہے جو ابھی بھی اپنے ناقابل تنسیخ حقِ خود ارادیت کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں، خاص طور پر فلسطین اور کشمیر کے عوام۔

پاکستان نے 1981 سے اس قرارداد کو اقوام متحدہ میں پیش کیا ہے اور اس کا مقصد ان خطوں میں غیر قانونی قبضے، فوجی مداخلت اور جبر کا سامنا کرنے والی عوام کے حقِ خود ارادیت کا عالمی سطح پر تحفظ کرنا ہے۔ اس قرارداد کے مطابق، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی غیر ملکی فوجی مداخلت اور قبضے کی سخت مخالفت کرے گی اور ایسے اقدامات کے ذمہ دار ممالک سے ان کو فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کرے گی۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے قرارداد پیش کرتے ہوئے کہا کہ آج بھی دنیا بھر میں کئی علاقے ایسے ہیں جہاں لوگ غیر ملکی قبضے کے تحت زندگی گزار رہے ہیں اور انہیں اپنے بنیادی حقِ خود ارادیت سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ ان کی جائز امنگوں کا اکثر جواب طاقت کے بے جا استعمال، ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیاں، غیر قانونی حراستیں اور آبادیاتی انجینئرنگ جیسے حربوں سے دیا جاتا ہے، جن میں غیر قانونی بستیاں شامل ہیں۔

پاکستانی مندوب نے مزید کہا کہ حقِ خود ارادیت اقوام متحدہ کے چارٹر کا ایک بنیادی اصول ہے اور اسے عالمی سطح پر متعدد بین الاقوامی دستاویزات میں تسلیم کیا گیا ہے، جن میں شہری و سیاسی حقوق کا بین الاقوامی عہد اور معاشی، سماجی و ثقافتی حقوق کا عہد بھی شامل ہیں۔

اب یہ قرارداد آئندہ ماہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پیش کی جائے گی، جہاں اس کی توثیق متوقع ہے۔ اس قرارداد کا مقصد اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کے مطابق ان عوام کے حقِ خود ارادیت کا عالمی سطح پر تحفظ کرنا ہے جو ابھی بھی غیر ملکی تسلط کے تحت زندگی گزار رہے ہیں۔

ٹیگز: