Get Alerts

معروف قانون دان ایس ایم ظفر کو ہم سے جدا ہوئے دو برس گزر گئے

 معروف قانون دان ایس ایم ظفر کو ہم سے جدا ہوئے دو برس گزر گئے

لاہور : پاکستان کے سابق وفاقی وزیر اور معروف قانون دان ایس ایم ظفر کو ہم سے جدا ہوئے دو برس گزر گئے۔ ایس ایم ظفر کا پاکستان کی آئینی، قانونی اور سیاسی تاریخ میں گہرا تعلق تھا اور انہوں نے ملکی تاریخ کے کئی اہم مقدمات میں کامیابی حاصل کی۔ ان کی خدمات کے اعتراف میں 2011 میں انہیں ’’نشانِ امتیاز‘‘ جیسے عظیم صدارتی ایوارڈ سے نوازا گیا۔

ایس ایم ظفر 6 دسمبر 1930 کو برما (موجودہ میانمار) کے شہر رنگون میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اپنے تعلیمی سفر کا آغاز شکرگڑھ سے کیا اور گورنمنٹ کالج لاہور سے انٹرمیڈیٹ کی تعلیم حاصل کی۔ بعد ازاں، پنجاب یونیورسٹی کے لاء کالج سے قانون کی تعلیم حاصل کی اور وہاں انہیں قانون میں پی ایچ ڈی کی اعزازی ڈگری بھی دی گئی۔

انہوں نے 1950 میں جسٹس سردار اقبال کے چیمبر سے وکالت کا آغاز کیا اور 1962 کے آئین میں بنیادی انسانی حقوق کی شقیں شامل کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ایس ایم ظفر 1965 سے 1969 تک پاکستان کے وزیر قانون و انصاف رہے اور اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل میں کشمیر کے مسئلے کے حل کے لیے جنگ بندی کی قرارداد کو مشروط کرایا۔

انہوں نے 1976 میں "ہیومن رائٹس سوسائٹی آف پاکستان" قائم کیا اور پاکستان کے سیاسی منظرنامے پر بھی نمایاں کردار ادا کیا۔ 2003 سے 2012 تک وہ سینیٹ کے رکن رہے اور 2004 سے 2012 تک ہمدرد یونیورسٹی کے چانسلر کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔

ایس ایم ظفر کی تصانیف میں ’میرے مشہور مقدمے‘، ’عدالت میں سیاست‘ اور ’ایس ایم ظفر کی کہانی ان کی زبانی‘ شامل ہیں، جو ان کی وکالت اور سیاست کے تجربات کی عکاسی کرتی ہیں۔

ان کی سیاسی اور قانونی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا اور انسانی حقوق کے تحفظ میں ان کی کاوشیں تاریخ کا حصہ بن چکی ہیں۔ 19 اکتوبر 2023 کو 93 سال کی عمر میں لاہور میں انتقال کے وقت انہوں نے قانون، سیاست اور انسانی حقوق کے میدان میں بے شمار یادگار کام چھوڑے۔

ٹیگز: