Get Alerts

امریکی وزیر خزانہ کا بھارت پر روسی تیل سے ناجائز منافع کمانے کا الزام، "ناقابل قبول" قرار دیا

امریکی وزیر خزانہ کا بھارت پر روسی تیل سے ناجائز منافع کمانے کا الزام،

واشنگٹن :امریکہ کے وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے بھارت پر روسی خام تیل کی بڑے پیمانے پر خریداری کے ذریعے ناجائز منافع کمانے کا سنگین الزام عائد کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یوکرین جنگ کے دوران بھارت نے روس سے سستا تیل خرید کر اسے عالمی منڈی میں مہنگے داموں فروخت کیا، جس سے بھارت کی بڑی صنعتوں اور امیر ترین خاندانوں نے اربوں ڈالر کمائے۔

بیسنٹ نے ایک پریس کانفرنس میں کہا   یہ امریکہ کے لیے ناقابلِ قبول ہےاور موقع پرستی کے ساتھ ساتھ  منافع خوری بھی ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ بھارت نے روس سے تیل کی درآمدات میں اتنا اضافہ کیا ہے کہ اب روس بھارت کی تیل کی ضروریات کا 42 فیصد پورا کر رہا ہے، جبکہ جنگ سے پہلے یہ شرح صرف 1 فیصد تھا۔ ان کے مطابق، بھارتی کمپنیوں نے اس تیل کو ریفائن کر کے یورپ اور دیگر ممالک کو فروخت کیا، جس سے انہیں تقریباً 16 ارب ڈالر کا "غیر معمولی" منافع حاصل ہوا۔
بیسنٹ نے چین سے موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ چین کی روس سے تیل کی درآمدات 13 سے 16 فیصد کے درمیان رہیں اور اس کا انحصار پہلے سے موجود تھا، لہٰذا چین کا رویہ موقع پرستانہ نہیں۔تیل کے ماہر میٹ سمتھ کے مطابق روسی تیل مغربی پابندیوں کے باعث سستا ہے، اور بھارت اس فرق سے بھرپور فائدہ اٹھا رہا ہے۔


اس تیل کو بھارت میں ریفائن کر کے پیٹرول اور ڈیزل میں تبدیل کرتا ہے۔پھر یہ مصنوعات یورپ جیسے خطوں کو فروخت کی جاتی ہیں، جنہوں نے براہِ راست روسی تیل پر پابندیاں لگا رکھی ہیں۔رپورٹ کے مطابق روس کے یوکرین پر فروری 2022 میں مکمل حملے کے بعد سے بھارت کی روس سے تیل کی درآمدات میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔
جنگ سے قبل بھارت روس سے انتہائی کم مقدار میں تیل درآمد کرتا تھا، مگر اب یہ شرح درجنوں گنا بڑھ چکی ہے۔ان الزامات کے بعد، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت پر تجارتی دباؤ بڑھاتے ہوئے روسی تیل سے منسلک بھارتی مصنوعات پر مزید 25 فیصد ٹیرف عائد کیا۔ اس طرح بھارت پر کل اضافی محصولات کی شرح اب 50 فیصد تک جا پہنچی ہے۔
امریکی تجارتی مشیر پیٹر ناوارو نے بھی بھارت کو متنبہ کیا ہے کہ اگر اس نے روس سے تیل کی خریداری جاری رکھی تو واشنگٹن مزید سخت اقدامات کرے گا۔
ان کشیدہ حالات کے باعث رواں ماہ ہونے والے امریکہ بھارت تجارتی مذاکرات بھی غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیے گئے ہیں، اور امریکی تجارتی وفد کا بھارت کا دورہ بھی منسوخ کر دیا گیا ہے۔اس  بیان کی وجہ سے  سفارتی کشیدگی نہ صرف امریکہ اور بھارت کے تجارتی تعلقات پر اثرانداز ہو سکتی ہے بلکہ عالمی توانائی کی منڈی اور جغرافیائی سیاست میں بھی ایک نیا تناؤ پیدا کر سکتی ہے۔