Get Alerts

وفاقی ادائیگیاں 8,404 ارب روپے: وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا 2200 ارب کے بقایا جات کا دعویٰ بے بنیاد 

وفاقی ادائیگیاں 8,404 ارب روپے: وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا 2200 ارب کے بقایا جات کا دعویٰ بے بنیاد 

اسلام آباد:وفاقی حکومت نے 2010 سے 2025 تک خیبر پختونخوا حکومت کو 8,404 ارب روپے کی ادائیگیاں کی ہیں، جس سے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے 2200 ارب روپے کے بقایاجات کے دعوے کی حقیقت بے نقاب ہوگئی ہے۔ وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کیے گئے مالی اعداد و شمار کے مطابق، ان 8,404 ارب روپے میں مختلف مالی معاونتیں شامل ہیں، جن میں این ایف سی کے تحت 5,867 ارب روپے، دہشت گردی کے بوجھ پر 705 ارب روپے، ضم شدہ اضلاع کے لیے 704 ارب روپے اور آئی ڈی پیز کے لیے 117 ارب روپے شامل ہیں۔

اعداد وشمار کے مطابق  2010 سے لے کر اب تک خیبر پختونخوا حکومت کو 5,867 ارب روپے کا سو فیصد حصہ وفاقی حکومت کی طرف سے مل چکا ہے، جو ہر 15 دن بعد باقاعدگی سے ادا کیا جاتا ہے۔وفاق نے دہشت گردی کے اضافی بوجھ کی وجہ سے خیبر پختونخوا کو 705 ارب روپے فراہم کیے ہیں۔2019 سے لے کر اب تک نئے ضم شدہ اضلاع کے لیے وفاقی حکومت نے 704 ارب روپے منتقل کیے ہیں۔

 خیبر پختونخوا حکومت کو آئی ڈی پیز کی بحالی کے لیے 117 ارب روپے اضافی ادا کیے گئے ہیں۔وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 115 ارب روپے کی رقم جاری کی ہے۔

ماہرین کے مطابق، وفاقی ترقیاتی پروگرام (PSDP) کے تحت فنڈز کسی بھی صوبے کے لیے واجب الادا رقم نہیں ہوتے، بلکہ یہ منصوبوں کی پیش رفت اور کارکردگی پر منحصر ہوتے ہیں۔ اس لیے PSDP فنڈز کی عدم اجرائی کو این ایف سی بقایاجات یا وفاقی واجبات کے طور پر پیش کرنا مالی اصولوں کی غلط تشریح ہے۔

یہ اعداد و شمار اس بیانیے کو مکمل طور پر رد کرتے ہیں کہ وفاق نے خیبر پختونخوا کے مالی حقوق روک رکھے ہیں یا اس پر کوئی بھاری رقم واجب الادا ہے۔ وفاقی حکومت کی جانب سے خیبر پختونخوا کی ترقی کے لیے شفاف اور منصفانہ مالی معاونت فراہم کی جا رہی ہے، اور اس پر مزید اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ این ایف سی کے نظام کو مزید مستحکم کیا جا سکے۔

وفاقی حکومت نے اپنے مالی اقدامات میں شفافیت، کارکردگی پر مبنی معاونت اور صوبوں کے ساتھ مشاورت کو ترجیح دی ہے۔ این ایف سی کے تحت صوبوں کی مالی حقوق کی فراہمی کے لیے مزید عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ خیبر پختونخوا اور دیگر صوبوں کی ترقی کو بہتر بنایا جا سکے۔

یہ اعداد و شمار وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے 2200 ارب روپے کے بقایاجات کے دعوے کی سچائی کو چیلنج کرتے ہیں اور وفاقی حکومت کے مالی اقدامات کی حقیقت کو واضح کرتے ہیں۔

ٹیگز: