Get Alerts

بھارتی آبی جارحیت، کیا پھر سے جنگ کی طرف اشارہ ہے ؟ 

بھارتی آبی جارحیت، کیا پھر سے جنگ کی طرف اشارہ ہے ؟ 

تحریر: وجیہہ تمثیل مرزا 

 سندھ طاس تنازعہ رواں سال میں بار بار زور پکڑ تا رہا ہے۔ بھارت کی جانب سے کبھی چناب کا بہاٶ بڑھا دیا جاتا ہے کبھی گھٹا دیا جاتا ہے۔ بھارت کو دریاؤں کے ذریعے بہائے جانے والے کل پانی کا تقریباً 20 فیصد کنٹرول حاصل ہے جبکہ پاکستان کو 80 فیصد پانی ملا ہے۔

 بھارت مسلسل سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیوں میں مشغول ہے۔گذشتہ دو رتین روز سے  بھارت نے ایک بار آبی جارحیت کا آغاز کر دیا ہے۔ مئی 2025 سے بھارت غیر مناسب حرکات میں مشغول ہے۔ جیسے بھارت نے اچانک پانی چھوڑ دیا، پھر اچانک پانی بند کر دیا۔ پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ بھارت سرحد پر پانی کو ہتھیار بنا رہا ہے۔ دریائے چناب میں پانی کی "اچانک تبدیلیاں" دیکھی گئی ہیں جو پاکستان کی سلامتی اور بہبود کے لیے خطرہ ہیں۔ یہ 10 ماہ کے بعد ہوا ہے جب ہندوستان نے پانی کے مشترکہ استعمال کے معاہدے سے یکطرفہ طور پر دستبرداری کی تھی۔ یہ تبدیلیاں پاکستان کی سلامتی اور بہبود کے لیے خطرہ ہیں۔ اس طرح کے غیر قانونی اور غیر ذمہ دارانہ طرز عمل سے پاکستان میں ایک انسانی بحران کو جنم دینے کا عندیہ ہے،" جس سے نہ صرف کسان متاثر ہوں گے، بلکہ لاکھوں پاکستانی شہری بھی متاثر ہوں گے ۔
نئی دہلی نے ابھی تک ان الزامات پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔ستمبر میں، بھارت کی طرف سے مشرقی پاکستان کے دیہاتوں کا صفایا کرتے ہوئے دریا میں بڑے پیمانے پر پانی چھوڑنے کے بعد پاکستان میں سیلاب نے تباہی مچا دی ۔
اس وقت ہندوستان نے کہا تھا کہ اس نے پاکستان کو ممکنہ سیلاب سے پیشگی خبردار کر دیا تھا۔بھارت کی جانب سے پاکستان کے ساتھ پانی کا معاہدہ ختم کرنے کے بعد مسلسل کشیدگی پھیلی ہوئی ہے۔

پاکستان نے بھارت سے دریائے چناب میں پانی کی غیر معمولی کمی کے حوالے سے باضابطہ وضاحت طلب کر لی ہے۔ وزارتِ آبی وسائل کے مطابق پاکستانی کمشنر برائے سندھ طاس نے معاملہ بھارت کے سامنے اٹھایا اور مؤقف اختیار کیا کہ سندھ طاس معاہدے کے تحت ڈیڈ اسٹوریج خالی کرنا ممنوع ہے۔

 پاکستانی حکام نے بھارت کو واضح اشارہ دیتے ہوۓ کہا ہے کہ بھارت مزید اپنی جارحیت سے باز نہ آیا تو پاکستان کو مجبورا سخت قدم اٹھانا پڑے گا۔

نوٹ: یہ کالم نگار/بلاگر کی ذاتی رائے ہے ، اس بارے میں ادارہ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

وجیہہ تمثیل مرزا  پاکستان میں مقیم ایک ملٹی میڈیا صحافی ہیں جو حقائق پر مبنی خبریں فراہم کرتی ہیں۔ شعبہ صحافت میں گریجویشن کے بعد پاکستان بھر میں اردو اور انگریزی دونوں اخبارات میں بطور خبر نگار، نیوز رپورٹر، کالم نگار کی خدمات انجام دے رہی ہیں۔ اس کے ساتھ رجسٹرڈ نیشنل/بین الاقوامی صحافتی کونسلز، فورمز، پریس کلب اور ایسوسی ایشنز کے لیے نامزد ہیں ۔ ڈیجیٹل اور پرنٹ میڈیا پر اپنی صحافتی ذمہ داریاں ادا کر رہی ہیں۔ ٹیم سرعام میں بطور صحافی اپنی خدمات انجام دے رہی ہیں اور الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان میں سماجی کارکن کی حیثیت سے اپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔
 
 

ٹیگز: