پشاور: خیبر پختونخوا میں حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے اندرونی اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیں، جہاں سابق اور موجودہ وزرائے اعلیٰ کے حامی گروہ کھل کر ایک دوسرے کے مدمقابل آ گئے ہیں۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق پارٹی واضح طور پر تین مختلف دھڑوں میں تقسیم ہو چکی ہے، جس سے صوبائی حکومت اور تنظیم کے لیے سنگین چیلنجز پیدا ہو گئے ہیں۔
پارٹی ذرائع کے مطابق اندرونی لڑائی اب بند کمروں سے نکل کر سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں تک پہنچ چکی ہے۔ علی امین گنڈاپور گروپ نے موجودہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے خلاف باقاعدہ محاذ کھول دیا ہے۔ علی امین گروپ کا موقف ہے کہ سہیل آفریدی کا ’ہنی مون پیریڈ‘ ختم ہو چکا ہے اور اب انہیں اپنی کارکردگی کی جوابدہی کرنا ہوگی۔
علی امین گروپ کی جانب سے سوشل میڈیا پر سہیل آفریدی کی پالیسیوں کے خلاف ایک منظم مہم شروع کر دی گئی ہے، جس میں ان کی انتظامی صلاحیتوں پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔پارٹی کے اندر اس وقت تین نمایاں گروپ بن چکے ہیں؛ ایک موجودہ وزیراعلیٰ کا حامی، دوسرا سابق وزیراعلیٰ کا ہمنوا اور تیسرا ’خاموش ناراض‘ گروپ جو قیادت کی تبدیلی کا خواہاں ہے۔