سرینگر : قابض مودی حکومت نے مقبوضہ جموں و کشمیر پر اپنا غیر قانونی قبضہ مزید مستحکم کرنے کے لیے پہلگام کے مبینہ ’فالس فلیگ‘ واقعے کو ڈھال بنا کر پوری وادی میں فوجی ناکہ بندی کی نئی لہر شروع کر دی ہے۔ بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق، وادی کے دونوں ڈویژنز میں درجنوں نئی فوجی چوکیاں قائم کر کے اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے۔
’دی ٹائمز آف انڈیا‘ کی رپورٹ کے مطابق، بھارتی سکیورٹی فورسز نے وادی کو ایک فوجی چھاؤنی میں بدلنے کے لیے درج ذیل اقدامات کیے ہیں۔ کشمیر ڈویژن میں 26 اور جموں ڈویژن میں 17 نئی مستقل چوکیاں قائم کی گئی ہیں، جس سے کل نئی چوکیوں کی تعداد 43 ہو گئی ہے۔
ہر نئی چوکی پر 25 مسلح اہلکار مستقل بنیادوں پر تعینات کیے گئے ہیں، جنہیں سینٹرل ریزرو پولیس فورس (CRPF) نے جدید ترین ہتھیار اور جنگی ساز و سامان فراہم کیا ہے۔ ان چوکیوں کے ذریعے کشمیریوں کی روزمرہ نقل و حرکت کو مزید محدود اور ان پر کڑی نگرانی رکھی جائے گی۔دفاعی ماہرین کا ماننا ہے کہ پہلگام واقعے کو محض ایک جواز کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ کشمیریوں کی سیاسی آواز اور حقِ خود ارادیت کی جدوجہد کو کچلا جا سکے۔ ناقدین کے مطابق بھارت کے یہ اقدامات اس کی جمہوری ساکھ پر ایک بڑا بدنما داغ ہیں۔
بین الاقوامی برادری کی خاموشی کے سائے میں بھارت کی جانب سے اٹھائے گئے یہ قدم انسانی حقوق کے عالمی چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، وادی میں فوجی اضافے کا مقصد کشمیریوں کے حوصلوں کو پست کرنا ہے، تاہم تاریخ گواہ ہے کہ فوجی طاقت سے حق کی آواز کو ہمیشہ کے لیے نہیں دبایا جا سکتا۔