بیروت : حزب اللہ کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل شیخ نعیم قاسم نے واضح کیا ہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی میں ان کی جماعت اپنی پالیسی خود طے کرے گی اور جو اقدام مناسب سمجھے گی، وہی کرے گی۔
ٹیلی گرام پر جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ حزب اللہ اس تنازع میں غیر جانبدار نہیں ہے، بلکہ اسے امریکی اور اسرائیلی جارحیت سمجھتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اسے صرف دو ملکوں کے درمیان جھگڑا نہیں بلکہ ایک ظالمانہ حملہ تصور کرتے ہیں۔
یہ بیان ایک ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب امریکہ کے خصوصی ایلچی برائے شام، ٹوم براک نے حزب اللہ کو خبردار کیا تھا کہ وہ اس تنازع سے دور رہے۔ براک نے کہا تھا کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ اگر حزب اللہ اس تنازع میں کودتی ہے تو یہ اس کے لیے بہت نقصان دہ فیصلہ ہوگا۔
واضح رہے کہ حزب اللہ ایک مسلح تنظیم ہے جس کا ماضی میں اسرائیل کے ساتھ کئی بار تصادم ہو چکا ہے، اور اسے ایران کی حمایت حاصل ہے۔ اسرائیل، امریکہ، برطانیہ اور دیگر کئی ممالک حزب اللہ کو دہشت گرد تنظیم قرار دے چکے ہیں۔