اسلام آباد : وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے قومی اسمبلی میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کی معاشی پالیسیوں کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں اور ملک میں معاشی استحکام کی سمت پیش رفت جاری ہے۔
وزیر خزانہ نے بتایا کہ بجٹ سازی کے عمل میں ارکانِ اسمبلی کی تجاویز کو شامل کیا گیا ہے جبکہ بجٹ دستاویزات سے متعلق تحریکِ استحقاق بھی ایوان میں پیش کی گئی۔ ان کے مطابق حکومت پالیسی سازی میں مشاورت اور شفافیت کو ترجیح دے رہی ہے۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ معاشی اشاریوں میں بہتری دیکھنے میں آ رہی ہے، کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس ہے، اور ٹیکس نظام میں اصلاحات کے ذریعے نیٹ کو وسعت دی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹائزیشن اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے نظام میں شفافیت اور کارکردگی بہتر بنائی جا رہی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ آئی ٹی برآمدات میں 20 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جبکہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے 4.25 ارب ڈالر کا زرمبادلہ موصول ہوا ہے۔ ان کے مطابق صنعتی سرگرمیوں میں بہتری اور برآمدی شعبے کی بحالی کے آثار بھی سامنے آ رہے ہیں۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت زرعی شعبے کی ترقی، چھوٹے کاشتکاروں کے لیے قرض اسکیم اور چین کے ساتھ تعاون کو فروغ دینے پر کام کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ادویات کی قیمتوں میں کمی بھی حکومتی پالیسی کا حصہ ہے۔
انہوں نے اتحادی جماعتوں کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ موجودہ بجٹ ملک کی معاشی سمت واضح کرتا ہے اور اصلاحاتی عمل تسلسل کے ساتھ جاری رہے گا۔