Get Alerts

فٹ بال ورلڈ کپ میں کون کہاں تک جائے گا؟

فٹ بال ورلڈ کپ میں کون کہاں تک جائے گا؟

تحریر: طارق وسیم

امریکہ کینیڈا اور میکسیکومیں فٹ بال ورلڈ کپ کی ہنگامہ خیزیاں جاری ہیں ،پاکستان میں بھی فٹ  بال کپ کا کریز بڑھ رہا ہے ،پہلے مرحلے میں نتائج اسی قسم کے آ رہے ہیں جس کی توقع تھی ایک دو میچز میں غیر متوقع نتیجہ ضرور آیا لیکن یہ ہر  کھیل میں ہو جاتا  ہے ،اور فٹ بال میں اسے انہونی نہیں سمجھا جاتا  جہاں  چار مرتبہ کی ورلڈ چیمپیئن اٹلی   ٹورنامنٹ کھیلنے کے لیے کوالیفائی ہی نہ کر سکے وہاں سب کچھ ممکن ہے ۔
یہ چیز عالمی سطح پر اس کھیل میں مسابقت کے  معیار کی بھی وضاحت کرتی ہے ،سپین کی ٹیم  جسے ٹورنامنٹ جیتنے کے لیے ہاٹ فیورٹ قرار دیا جا رہا تھا  ،کیپ ورڈے سے ڈرا کھیلی تو  لوگوں بالخصوص سپین کے چاہنے والوں کو دھچکا لگا ،اس کے بعد  کینیڈا  نے قطر کو 6 صفر سے ہرایا اور پرتگال کانگو سے ڈرا کھیل  گیا تو برصغیر بالخصوص پاکستان میں لوگوں کو کافی حیرت ہوئی،اس کی وجہ یہ نہیں کہ میدان میں کوئی اپ سیٹ ہوئے ،بلکہ  وجہ اس کی یہ ہے کہ ہم فٹ بال نہ تو کھیلتے ہیں نہ فالو کرتے ہیں ،لیکن اگر عالمی سطح پر کوئی چیز ٹرینڈنگ میں آ جائے تو اس میں اپنا حصہ ڈالنا فرض سمجھتے ہیں ۔
 وطن عزیز میں ایسے ایسے  نابغے  موجود ہیں  سوشل میڈیا  پر 2022 کے میچز کی ویڈیو اپ لوڈ کرکے کہہ رہے ہوتے ہیں دیکھیں رونالڈو نے کیا شاندار گول کر دیا  ہے ،بہر حال یہ بد قسمتی ہے کھیل کے میدانوں  اور تالابوں کے لیے مشہور یہ خطہ اس حالت کو پہنچ چکا ہے کہ جنوبی ایشیا   جس میں دنیا کی نصف آبادی بستی ہے۔چین بھارت پاکستان اور بنگلہ دیش     پر مشتمل ان ممالک میں سے کوئی ایک بھی  11 رکنی فٹ بال ٹیم نہیں  بنا سکا ہے ۔
ایک بھارتی نے سوشل میڈیا پر سوال کیا کہ ایک ارب 50 کروڑ  آبادی  کے ملک بھارت کی فٹ بال ٹیم کیوں نہیں ہے؟ تو دوسرے نے جواب دیا کہ چین  کی کرکٹ ٹیم کیوں نہیں ہے ؟جہاں تک پاکستان کاتعلق ہے تو  فٹ بال کی عالمی تنظیم اسے دنیا کے ان 15 ممالک میں شامل کر چکی ہے، جہاں باقاعدہ فٹ بال کو نقصان پہنچایا گیا  ہے ،فیفا نے پاکستان  کو 2030  کے ورلڈ کپ میں وائلڈ کارڈ اینٹری دے دی ہے ، پاکستان یہ ورلڈ کپ کھیلے گا  جس کے بعد شاید پاکستان میں فٹ بال کا جنون بڑھے۔ صلاحیتوں کی بات کی جائے تو پاکستان کے صوبہ پنجاب کے لوگ  جرمنز کے بعد دنیا کے دوسرے فٹ اور تندرست ترین لوگ قرار دیے جاتے ہیں ،جاپان کا نمبر تیسرا ہے ،  چند برس  کی محنت ہمیں بھی اچھی  فٹ بال کھیلنے والی ٹیموں میں شامل کر سکتی ہے۔
  اس کاثبوت یہ ہے  کہ مراکش  کی ٹیم جو 2014 میں عالمی رینکنگ میں 82 ویں نمبر پر تھی اس وقت 7 ویں نمبر  ہے ، پاکستان عالمی فٹ بال رینکنگ میں 198ویں نمبر  پر ہے، لیکن  دس سال محنت کے بعد ہم  ٹاپ 10 میں بھی آ سکتے ہیں، خیر یہ تو پاکستانی ہونے کے ناطے ہمارے بلکہ  شاید ہر اس شہری کے جذبات ہیں جو کھیلوں میں دلچسپی رکھتا ہے اور اچھے کی امید بہر حال رکھنی چاہیے،اب واپس فٹ بال ورلڈ کپ کی جانب آتے ہیں جہاں  پرتگال ،سپین ،قطر  اور دیگر کچھ ٹیموں کی پرفارمنس سے لوگ مایوس ہوئے   ہیں ،وہیں جرمنی ،انگلینڈ ناروے اور میکسیکو شاندار فٹ بال کھیل رہے ہیں  جو انتہائی خوش آئند بات ہے  ۔ ایک جانب تو میکسیکو کو  ہوم گراؤنڈ ایڈوانٹیج حاصل ہے دوسری جانب وہ ایک بہترین فٹ بال کھیلنے والی ٹیم بھی ہے ۔چلی  ،میکسیکو ،کولمبیا  جنوبی امریکہ کی وہ ٹیمیں ہیں جو برازیل اور ارجنٹائن کو  روٹین میں ہراتی رہتی  ہیں اور شور شرابہ بھی نہیں کرتے کیونکہ یہ لوگ میدان میں کھیلتے ہیں ۔چلی تو ویسے بھی    جنوبی امریکہ کی سب سے اچھی ٹیم سمجھی جاتی ہے،،  لیکن شدید مسابقت کی وجہ سے وہ بھی اس ورلڈ کپ کے  لیے کوالیفائی نہیں کر سکے ۔جرمنی 2014 کا  ورلڈ کپ جیتنے کے بعد سے بہت ناقص فٹ بال کھیل رہا تھا،  لیکن اس ورلڈ کپ کے پہلے میچ میں اسی جرمنی کی جھلک دکھائی دی جسے دنیا جانتی ہے  جو بہت اچھی بات ہے ۔
ناروے ایک ایسی ٹیم  ہے، جس کے بارے میں زیادہ بات نہیں ہوتی لیکن وہ اس ورلڈ کپ کا ڈارک ہارس ثابت ہو سکتی ہے، انہیں ٹاپ 10 فیورٹس میں بھی رکھا گیا ہے وجہ اس کی صرف  ایک کھلاڑی کی پرفارمنس  ہے  جن کا نام ہے ارلنگ ہالینڈ  یہ ، ارب پتی فٹ بالر کرسٹیانو رونالڈ و کی طرح اپنے ملک کی واحد امید ہے     ،رونالڈو تو41 برس کے ہوچکے ہیں اور اپنی ٹیم کو ورلڈ کپ نہیں جتو اسکے ،اگرچہ انہوں نے اپنی کپتانی میں یورو کپ جیتا ہے پرتگال کے لیے، اور اپنے ملک کے علاوہ دنیا بھر میں فٹ کے فروغ کا باعث بھی بنے ہیں ،لیکن ارلنگ ہالینڈ اپنی ٹیم کو ورلڈ کپ جتو اسکتے ہیں یہ بہت سے ماہرین کا ماننا ہے ،اور اگر ایسا ہوا تو وہ فٹ بال کی تاریخ کے سب سے بڑے   فارورڈ کہلائیں گے ۔ اس ٹورنا منٹ کی اب تک کی سب سے  تگڑی ٹیم  انگلینڈ ثابت ہوئی ہے ،ہیری کین کی کپتانی میں انگلینڈ کی ٹرانسفارمیشن نے سب کو حیران کر دیا ہے ، اگر وہ اسی طرح کھیلتے رہے تو با آسانی کپ جیت سکتے ہیں ۔
 27 جون کو ٹورنامنٹ کا پہلا راؤنڈ ختم ہوگا جس کے بعد  صورتحال مزید واضح ہوجائے گی ،48 میں سے 16 ٹیمیں باہر ہو جائیں گی اور 29 جون سے راؤنڈ آف 32 شروع ہوجائے گا  ،فرانس اور نیدر لینڈز کو کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا لیکن،، وہی ٹیمیں  آگے جاتی نظر آتی ہیں جن کا میں نے اوپر ذکر کیا ہے ، تاہم  فائنل کا انتظار پھر بھی شائقین کو کرنا پڑے گا کہ ٹرافی کون اٹھائے گا۔

نوٹ: neonews.pkاوراس کی پالیسی کا  کالم نگار/بلاگر کی رائے سے متفق ہونا  ضروری نہیں ہے 

طارق وسیم پاکستان بالخصوص لاہور کی صحافت میں جانا پہچانا نام ہے دو دہائی قبل انگریزی جرنلزم سے کیریئر کا آغاز کرنے والے طارق وسیم نے براڈ کاسٹ جرنلزم میں بطور رپورٹر،اینکر اور نیوز ڈیپارٹمنٹ میں  اپنی منفرد پہچان بنائی ہے۔

ٹیگز: