لندن/تہران: ایک معروف برطانوی اخبار نے ایران کے قد آور سیاستدان اور سابق سپیکر پارلیمنٹ علی لاریجانی کی شہادت پر اپنی رپورٹ میں اسے ایران کے لیے ایک ایسا نقصان قرار دیا ہے جس کی تلافی ناممکن ہے۔ اخبار کے مطابق، علی لاریجانی کا جانا تہران کے لیے آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت سے بھی بڑا سانحہ ثابت ہو سکتا ہے۔
اخبار نے علی لاریجانی کی شخصیت کا احاطہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ وہ محض ایک ایرانی سیاستدان نہیں تھے، بلکہ روس اور چین سمیت دنیا کی بڑی طاقتوں کے ایوانوں میں بھی ان کا ذاتی اثر و رسوخ قائم تھا۔ علی لاریجانی کو ایران کی خارجہ پالیسی اور علاقائی حکمتِ عملی کا معمار تصور کیا جاتا تھا، یہی وجہ ہے کہ اسرائیل نے انہیں ایک اسٹریٹجک ہدف (Strategic Target) کے طور پر نشانہ بنایا۔
برطانوی اخبار کی رپورٹ میں علی لاریجانی کی شہادت کا موازنہ ایران کے سابق کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی سے کیا گیا ہے.رپورٹ کے مطابق، 2020 میں قاسم سلیمانی کی شہادت کے بعد یہ ایران کے لیے اب تک کا سب سے بڑا سانحہ ہے۔
اخبار کا دعویٰ ہے کہ اسرائیل نے علی لاریجانی کو اس لیے نشانہ بنایا کیونکہ وہ ایران کے سفارتی اور سیاسی نظام کی ریڑھ کی ہڈی سمجھے جاتے تھے۔
اس رپورٹ کے بعد عالمی مبصرین کا کہنا ہے کہ علی لاریجانی کی شہادت سے ایران کے اندرونی اور بیرونی سیاسی ڈھانچے میں ایک ایسا خلا پیدا ہو گیا ہے جسے پُر کرنا تہران کے لیے ایک کڑا امتحان ہوگا۔ ان کا چین اور روس کے ساتھ قریبی تعلق ایران کے لیے بین الاقوامی سطح پر ایک مضبوط ڈھال کا کام کرتا تھا۔