Get Alerts

پاک افغان امن معاہدہ: تجارت بحال، افغان مہاجرین کی واپسی کا عمل جاری رہے گا : وزیر دفاع

پاک افغان امن معاہدہ: تجارت بحال، افغان مہاجرین کی واپسی کا عمل جاری رہے گا : وزیر دفاع

اسلام آباد :وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ امن معاہدہ نہ صرف دوطرفہ کشیدگی میں کمی کی جانب ایک مثبت قدم ہے، بلکہ اس کے تحت دونوں ممالک کے درمیان معطل شدہ تجارت اور ٹرانزٹ نظام بھی بحال کیا جا رہا ہے۔ معاہدے کے تحت افغانستان کو دوبارہ پاکستانی بندرگاہیں استعمال کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔

الجزیرہ عربیہ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں خواجہ آصف نے کہا کہ گزشتہ ہفتے ہونے والے دہشت گرد حملوں کے بعد پاکستان اور افغانستان کے درمیان تناؤ میں اضافہ ہوا تھا، جس کے بعد فوری طور پر قطر اور ترکیہ کی ثالثی میں مذاکرات کا آغاز کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ معاہدے کا بنیادی مقصد سرحدی علاقوں میں موجود دہشت گرد نیٹ ورکس کا خاتمہ اور دوطرفہ تعلقات کو معمول پر لانا ہے۔

وزیر دفاع کے مطابق افغان وزیر دفاع نے بھی تسلیم کیا ہے کہ دہشت گردی دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کی اصل وجہ ہے اور اس کے خاتمے کے لیے مشترکہ اقدامات کیے جائیں گے۔

انہوں نے بتایا کہ معاہدے کی تفصیلات کو حتمی شکل دینے کے لیے آئندہ ہفتے ترکیہ کے شہر استنبول میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوگا، جس میں قطر اور ترکیہ بھی شریک ہوں گے۔ خواجہ آصف کے مطابق ان دونوں ممالک کی ثالثی اور موجودگی اس معاہدے کی کامیابی کی ضمانت ہے۔

تجارت کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ معاہدے کے بعد افغانستان کو دوبارہ پاکستانی بندرگاہوں اور تجارتی راہداریوں تک رسائی حاصل ہو گی، جس سے خطے میں اقتصادی سرگرمیاں بحال ہونے کی امید ہے۔

افغان مہاجرین کے بارے میں بات کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ وہ افغان شہری جن کے پاس قانونی ویزے اور شناختی کاغذات موجود ہیں، ان کو پاکستان میں قیام کی اجازت حاصل رہے گی، تاہم جن کے پاس کوئی دستاویزات نہیں، ان کی واپسی کا عمل بدستور جاری رہے گا۔

انہوں نے زور دیا کہ پاک افغان سرحد کا استعمال اب باضابطہ اور بین الاقوامی اصولوں کے تحت کیا جائے گا تاکہ مستقبل میں کسی قسم کی غلط فہمی یا کشیدگی پیدا نہ ہو۔

خواجہ آصف نے اعتراف کیا کہ معاہدہ ایک مثبت پیش رفت ہے، لیکن اس پر مکمل اطمینان کے لیے وقت درکار ہوگا۔ "یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہو گا کہ ہم سو فیصد مطمئن ہیں۔ ہمیں آنے والے ہفتوں اور مہینوں میں دیکھنا ہوگا کہ اس معاہدے پر کس حد تک مؤثر عمل درآمد ہوتا ہے۔"

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور افغانستان صدیوں سے ہمسایہ ممالک ہیں اور جغرافیہ بدلا نہیں جا سکتا۔ "ہم امید کرتے ہیں کہ اس معاہدے کے بعد دونوں ممالک اعتماد، تعاون اور استحکام کی طرف بڑھیں گے تاکہ خطے میں پائیدار امن اور ترقی کا نیا دور شروع ہو سکے۔"

ٹیگز: