اسلام آباد : یونائیٹڈ بزنس گروپ کے پیٹرن انچیف ایس ایم تنویر نے کہا ہے کہ پاکستان کو معاشی طور پر مستحکم کرنے اور ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کے لیے کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ 10 گنا بڑھانا ہوگا۔
وفاقی دارالحکومت میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اگر آج بجلی مہنگی ہے تو متبادل توانائی، خصوصاً سولر پاور، کو اپنانا چاہیے تاکہ لاگت میں کمی آئے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو دنیا میں اب عزت مل رہی ہے اور یہ موقع ہے کہ ہم اپنی معیشت کو مستحکم کریں۔
ایس ایم تنویر نے کہا کہ جتنا زیادہ کاروبار بڑھے گا، اتنا ہی روزگار پیدا ہوگا اور ملک کو زیادہ ٹیکس حاصل ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارا سیاست سے کوئی تعلق نہیں، ہم معیشت کی بہتری کیلئے کام کر رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں صحت اور تعلیم پر 3.2 ٹریلین روپے خرچ کیے جا رہے ہیں، تاہم ان شعبوں میں مزید بہتری کیلئے محنت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے بچے کو سرکاری اسکول میں تعلیم دلوا رہے ہیں، جو تعلیمی نظام پر اعتماد کا اظہار ہے۔
ایس ایم تنویر کا کہنا تھا کہ پاکستان کے پاس تیل، معدنیات اور دیگر قدرتی وسائل کی کوئی کمی نہیں، اس کے باوجود ہم قرضوں میں ڈوبے ہوئے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کہیں نہ کہیں ہمارے سسٹم میں خرابی موجود ہے۔
انہوں نے نظام میں بہتری کیلئے انتظامی ڈھانچے میں تبدیلی کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ ملک کو چھوٹے صوبوں میں تقسیم کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کے آج 30 سے زائد صوبے ہیں جبکہ پاکستان کی 25 کروڑ آبادی کے باوجود صرف 4 صوبے ہیں، اس سے نظام کی بہتری ممکن نہیں۔
ایس ایم تنویر نے کہا کہ جب تک اختیارات نچلی سطح تک منتقل نہیں ہوں گے، مسائل حل نہیں ہوں گے۔ انہوں نے پاک فوج کی قربانیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ فوج دشمن کو ہر محاذ پر منہ توڑ جواب دے رہی ہے، لیکن بطور شہری ہمارا بھی فرض ہے کہ ہم اپنا کردار ادا کریں۔