Get Alerts

 "دھمکیوں اور دباؤ کے ساتھ مذاکرات ناممکن ہیں":امریکہ کو ایران کا جواب

 

تہران : ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ ڈاکٹر باقر قالیباف نے واشنگٹن کو واضح پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران دھمکی آمیز ماحول میں کسی بھی قسم کے مذاکرات کو یکسر مسترد کرتا ہے۔
ڈاکٹر باقر قالیباف نے اپنے بیان میں امریکی رویے پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ دھمکیاں اور مذاکرات ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔ انہوں نے نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ مذاکرات کی میز کو "ہتھیار ڈالنے کی میز" میں تبدیل کرنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔مذاکرات کی میز پر دباؤ ڈال کر نتائج حاصل کرنے کی پالیسی کبھی کامیاب نہیں ہوگی۔
ایران صرف برابری اور باہمی احترام کی بنیاد پر بات چیت کا قائل ہے، کسی بھی قسم کی زبردستی قبول نہیں کی جائے گی۔مذاکرات کا مقصد مسائل کا حل ہونا چاہیے، نہ کہ کسی ایک فریق کی مرضی مسلط کرنا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر باقر قالیباف کا یہ بیان ایران کی اس پالیسی کا عکاس ہے کہ وہ کسی بھی بیرونی دباؤ کے سامنے جھکنے کو تیار نہیں ہے۔ ایران نے واضح کر دیا ہے کہ اگر امریکہ مذاکرات میں سنجیدہ ہے تو اسے پہلے دھمکیوں اور پابندیوں کا سلسلہ بند کرنا ہوگا۔

ٹیگز: