کابل : افغانستان میں طالبان حکومت کی جابرانہ پالیسیوں اور عوامی حقوق کی پامالی کے خلاف سیاسی مزاحمت نے شدت اختیار کر لی ہے۔ افغان عوام اور مقتدر سیاسی قیادت نے موجودہ نظام پر مکمل عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے اسے مسترد کر دیا ہے۔
حزبِ اسلامی کے سربراہ اور تجربہ کار افغان رہنما گلبدین حکمت یار نے طالبان حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے "ناقابلِ قبول" قرار دے دیا ہے۔ ان کے بیان کے اہم نکات درج ذیل ہیں۔ موجودہ دورِ حکومت میں افغانستان کے حالات عوام کی خواہشات کے بالکل برعکس ہیں۔ملک کو موجودہ بند گلی سے نکالنے کا واحد حل شفاف انتخابات اور اقتدار کی عوامی نمائندوں کو منتقلی ہے۔
طالبان کی یکطرفہ حکمرانی اب مزید نہیں چل سکتی، فوری سیاسی اصلاحات وقت کی ضرورت ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، طالبان کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور سخت گیر قوانین نے افغان معاشرے میں دم گھٹنے جیسی صورتحال پیدا کر دی ہے۔ کابل سمیت مختلف صوبوں میں طالبان کے سخت رویوں کے خلاف عوامی غصہ بڑھ رہا ہے۔
سیاسی قیادت کا ماننا ہے کہ طالبان نے ملک کو عالمی اور داخلی سطح پر تنہا کر دیا ہے۔