واشنگٹن / نئی دہلی: صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیان نے مودی حکومت کے ان تمام دعوؤں کو بے نقاب کر دیا ہے جن میں امریکہ کے ساتھ حالیہ تجارتی معاہدے کو "تاریخی کامیابی" قرار دیا جا رہا تھا۔ صدر ٹرمپ نے واضح کر دیا ہے کہ اس معاہدے کا تمام تر فائدہ صرف امریکہ کو ہوگا اور بھارت بدستور بھاری ٹیرف ادا کرنے پر مجبور رہے گا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں بھارتی خوش فہمیوں کو ختم کرتے ہوئے کہا کچھ بھی نہیں بدلا، وہ (بھارت) ٹیرف دے رہے ہیں، ہم نہیں دے رہے۔" اس بیان نے ثابت کر دیا ہے کہ مودی حکومت نے ٹرمپ کے سخت معاشی دباؤ کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے ہیں اور معاہدے کی شرائط مکمل طور پر امریکہ کے حق میں ہیں۔
صدر ٹرمپ کی جانب سے بھارت کے خلاف اختیار کی گئی سخت گیر حکمت عملی کے اہم سنگ میل درج ذیل ہیں
مئی 2025: صدر ٹرمپ نے وارننگ دی کہ آئی فونز امریکہ میں تیار ہوں، ورنہ بھارت پر 25 فیصد ٹیرف لگے گا۔
جولائی 2025: بھارت پر باقاعدہ 25 فیصد ٹیرف عائد کر دیا گیا اور بھارتی تجارتی رکاوٹوں کو دنیا میں سب سے بلند قرار دیا گیا۔
اگست 2025: روسی تیل کی خریداری پر بھارت پر مزید 25 فیصد اضافی ٹیرف نافذ ہوا اور امریکی صدر نے بھارت کو "مردہ معیشت" قرار دیا۔
فروری 2026: مودی اور ٹرمپ کے درمیان تجارتی معاہدے کا اعلان ہوا، جسے اب ٹرمپ کے بیان نے بھارتی شکست میں بدل دیا ہے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کے بیان نے بھارتی سفارتی بیانیے کی بنیادیں ہلا کر رکھ دی ہیں۔ اگر معاہدے کے باوجود بھی مالی قیمت صرف بھارت کو ہی ادا کرنی ہے اور ٹیرف میں کوئی رعایت نہیں ملی، تو مودی سرکار کا اسے "کامیابی" قرار دینا محض ایک خود فریبی اور عوام کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے۔