Get Alerts

’’کھادا پیتا لاہے دا ۔۔۔‘‘

’’کھادا پیتا لاہے دا ۔۔۔‘‘

تحریر: طارق وسیم

پنجاب حکومت نے دینہ سے شیر شاہ سوری کا  مجسمہ ہٹا کر سلطان سارنگ آف گکھڑ کا مجسمہ لگا دیا ہے جبکہ شیر شاہ سوری کا مجسمہ قلعہ روہتاس کے باہر نصب کر دیا گیا  ہے ۔پاکستان صوبائی خود مختاری کا حامل  ملک ہے ،آپ اپنے صوبے میں علاقائی زبانیں پڑھا سکتے ہیں سلیبس کا حصہ بنا سکتے ہیں اور اپنی ثقافت  کو فروغ دے سکتے ہیں ۔ پنجاب حکومت یہ سب کوششیں کر رہی ہے اور یہ اس کا حق بھی ہے ، اس دوران چند فکری مغالطے بھی زیر  بحث آئے ہیں  جن کی درستگی ضروری ہے ۔ مثال کے طور پر ہماری تاریخ میں ہمیشہ یہ لکھا گیا کہ جی ٹی روڈ شیر شاہ سوری نے بنائی    ، لیکن  تاریخ دانوں کا کہنا ہے  کہ یہ غلط تاثر ہے کہ جی ٹی  روڈ شیر شاہ سوری کے دور میں بنی،  بلکہ یہ راستہ چندر گپت موریہ کے دور میں موجود تھا  اور اسی  راستے سے اشوک  دو مرتبہ خیبر پہنچا  اسے فتح کیا۔
دوسری مرتبہ  یہاں بدھ مت کی تبلیغ کے لیے آیا ،اور سارے خطے میں بدھ مت پھیلایا ،اسی راستے سے اشوک کی بیٹی سنگ مترا اور بیٹا   مہندرا   یہاں آئے  اور بدھ مت کا پرچار کیا  جس کے بعد یہ علاقہ گندھارا کہلایا جو چند صدیاں قبل افغانستان کہلانا شروع ہوا ۔     سلمان رشید جیسے جید تاریخ دان   یہ کہتے ہیں  کہ  شیر شاہ سوری نے جی ٹی روڈ پر  پانی کا بندو بست کیا اور مختلف مقامات پر مہمان سرائے بنوائے ،اسی طرح محمود غزنوی کے حوالے سے بھی سوالات اٹھائے  جا رہے ہیں،جواز اس کا یہ دیا جاتا ہے کہ پنجاب کی   لوک داستانوں میں احمد شاہ ابدالی ،محمود غزنوی اور ان جیسے  دیگر  کو منفی کردا روں  کے طور   پر پیش کیا  ۔بابا بلھے شاہ کا مشور زمانہ شعر کھادا پیتا لاہے  دا ،باقی احمد شاہے دا،  پنجاب کی لوک داستانوں میں تسلسل سے  لکھا جاتا ہے ۔پنجاب میں یہ سوالات ہمیشہ سے اٹھتے رہے  ہیں ہر صوبے یا علاقے کا حق  ہے کہ وہ  اپنی ثقافت  کو فروغ دیں، اس کا پرچار کریں اس کی حفاظت اور دفاع بھی کریں ۔
سندھ نے اس کا عملی  ثبوت اس وقت دیا جب حال ہی میں  صحافی رضوان رضی نے اپنے وی لاگ میں  سندھ کے حوالے سے چند نازیبا کلمات ادا کیے، تو سندھ سے شدید رد عمل آیا ، ان  کو سینیٹ کی سٹینڈنگ کمیٹی میں طلب کیا گیا ، جہاں  رضوان رضی نے باقاعدہ معافی مانگی اور تب جا کے معاملہ رفع دفع ہوا ۔ ایک حلقے کا یہ بھی کہنا ہے کہ  یہ ملک    اسلام کے نام پر بنا ہے، یہاں قومیت کی باتیں کرنا درست نہیں ،سوال یہ ہے کہ کیا مذہب کی موجودگی میں ثقافت ختم ہو جاتی ہے ؟۔زمین سے رشتہ ٹوٹ جاتا ہے ؟ ۔تقسیم ہند کے وقت پاکستان کی بیورو کریسی وسطی بھارت سے آئے ہوئے لوگوں پر مشتمل تھی ۔وہ جانتے تھے کہ وقت آئے گا دھرتی کے باسی اس پر حق جتائیں گے، کیوں نہ ایسا بیانیہ ترتیب دیا جائے جس میں پاکستان میں بسنے والی کسی بھی قوم  کی ثقافت کا ذکر نہ ہو ، امت کا تصور استعمال کرتے ہوئے مقامی ہیروز کی جگہ  نئے ہیرو ز بنائے جائیں اور ایک نیا کلچر پروان چڑھے،  راجہ پورس کی جگہ کسی ترک کو  دی جائے ،رنجیت سنگھ اور ہری سنگھ نلوہ کا تمسخر اڑایا جائے ، رائے  احمد خان کھرل کا نام و نشان مٹا دیا جائے ۔ پنجاب  کے باسی  چاہے ہندو ہوں سکھ یا مسلمان زیادہ تر سیکولر سوچ کے حامل تھے۔پنجاب وہ   صوبہ ہے جہاں انسانی تاریخ کی سب سے بڑی ہجرت  ہوئی۔  ہندو اور سکھ ہجرت کر کے مشرقی پنجاب گئے اور وہاں بسنے والے مسلمان مغربی یعنی پاکستان کے زیر انتظام پنجاب آئے ، یہی وہ وقت تھا اس صوبے میں دونوں اطراف مذہبی سوچ پروان چڑھی ۔
  خیبر پختونخوا میں کیونکہ مذہبی رحجانات  زیادہ تھے اور  اس بیانیے سے انہیں ایک نئی پہچان مل رہی تھی اس یہ یہ وہاں   سپر ہٹ ہوا ، اس بیانیے کے تحت ہی ،ابدالی ،غوری،غزنوی  کے علاوہ  سرسید جیسے لوگوں  کو بھی  ہیرو بنا کر پیش کیا گیا  ،اسے مصلح اعظم اور تعلیم کا مبلغ کہا گیا ، جبکہ  سر سید جیسے نجانے کتنے لوگ ٹیکسلا کی یونیورسٹیز میں کلرکی کیا کرتے تھے ،وہ تما م لوگ  جو کبھی پنجاب آئے نہ ان کا پنجاب سے کوئی تعلق تھا ،انہیں پنجاب میں ہیرو بنا کر نہ صرف  پیش کیا گیا بلکہ سلیبس بھی ان کی داستانوں سے بھر دیا گیا ۔دلی جو تاریخی  طور پر پنجا ب ہی کا حصہ ہے ،اسے  ایک ایسی دنیا بنا کر پیش کیا جس میں رہنے والےمہذب ترین لوگ  اورہر ثقافت سے ماورا تھے  ۔اردو کو قومی زبان بنا دیا گیا ، جس پر بنگلہ دیش  سے شدید رد عمل آیا جو  بالآخر ڈھاکہ فال پر منتج ہوا ،،وسطی بھارت سے آئے لوگوں نے،ہم نہیں تو کچھ بھی نہیں کے اصول کے تحت ،اس خطے کی شناخت ہی گم کر دی اور  یہ جرم دانستہ کیا گیا ،لیکن یہ لوگ شاید جانتے نہیں تھے کہ انسان کا زمین سے تعلق کبھی ختم نہیں ہو سکتا ،آج پنجاب میں یہی ہو رہا ہے ،پنجابی اگر سوال اٹھا رہے ہیں تو جواب دیا جانا  چاہیے ،جو اس ملک میں تعصب ،نفرت اور  تفریق کا چورن بیچ گئے ان  کی گردن ناپنی چاہیے ،  وہ اب اس دنیا میں نہیں ہیں ، ان کی نسلیں ضرور موجود ہیں  جو مکافات عمل  ہوتے دیکھ رہی ہیں اور مزید دیکھیں  گی ،جھوٹ کی ہنڈیا بیچ چوراہے میں پھوٹ رہی ہے ۔جھوٹےکلچر  کی حقیقت کھل کر سامنے آ رہی ہے۔

نوٹ: neonews.pkاوراس کی پالیسی کا  کالم نگار/بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے

طارق وسیم پاکستان بالخصوص لاہور کی صحافت میں جانا پہچانا نام ہے دو دہائی قبل انگریزی جرنلزم سے کیریئر کا آغاز کرنے والے طارق وسیم نے براڈ کاسٹ جرنلزم میں بطور رپورٹر،اینکر اور نیوز ڈیپارٹمنٹ میں  اپنی منفرد پہچان بنائی ہے۔

ٹیگز: