Get Alerts

بلوچستان ہائیکورٹ نے کوئٹہ میں پسند کی شادی پر قتل کے واقعے کا نوٹس لےلیا، مقتولین کی قبر کشائی کا حکم

بلوچستان ہائیکورٹ نے کوئٹہ میں پسند کی شادی پر قتل کے واقعے کا نوٹس لےلیا، مقتولین کی قبر کشائی کا حکم

کوئٹہ :  بلوچستان ہائیکورٹ نے کوئٹہ کے نواحی علاقے سنجدی ڈیگاری میں پسند کی شادی کرنے والے جوڑے بانو ستک زئی اور احسان اللہ سمالانی کے بہیمانہ قتل کا نوٹس لے لیا ہے۔ چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ نے واقعے کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے ایڈیشنل چیف سیکرٹری اور آئی جی بلوچستان کو کل عدالت میں طلب کر لیا ہے۔

ادھر جوڈیشل مجسٹریٹ اختر شاہ کی ہدایت پر مقتولہ بانو ستک زئی کی قبر کشائی کر کے پوسٹ مارٹم کیا گیا تاکہ موت کی اصل وجوہات اور فائرنگ کی تعداد کا تعین کیا جا سکے۔

پولیس کے مطابق، یہ واقعہ عیدالاضحیٰ سے تین روز قبل پیش آیا تھا، جس کی ویڈیو حالیہ دنوں سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی۔ ویڈیو میں دونوں مقتولین کو فائرنگ کر کے قتل کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ واقعہ کے بعد عوامی حلقوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔

ایف آئی آر تھانہ ہنہ اوڑک کے ایس ایچ او نوید اختر کی مدعیت میں انسداد دہشت گردی ایکٹ اور دفعہ 302 ت پ سمیت دیگر دفعات کے تحت درج کی گئی ہے۔ ایف آئی آر کے مطابق، مقتول جوڑے کو مقامی سردار شیر باز خان کے پاس پیش کیا گیا، جہاں ان پر کاروکاری کا الزام لگا کر انہیں قتل کرنے کا "فیصلہ" سنایا گیا۔

پولیس نے اب تک 20 ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ دیگر کی گرفتاری کے لیے آپریشن جاری ہے۔ ایف آئی آر میں جن مرکزی ملزمان کے نام شامل ہیں ان میں شاہ وزیر، جلال، ٹکری منیر، بختیار، ملک امیر اور عجب خان شامل ہیں۔ سردار شیر باز خان پر الزام ہے کہ اس نے غیرقانونی طور پر فیصلے کی سربراہی کی۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے بھی واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے یقین دہانی کرائی ہے کہ ریاست مظلوموں کے ساتھ کھڑی ہے اور تمام ملوث افراد کو قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے گی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ اور دیگر شواہد کی روشنی میں کیس کو جلد منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔

ٹیگز: