Get Alerts

وزیراعظم شہباز شریف کا جدید اے آئی پر مبنی پرائم منسٹر آفس سسٹم کا آغاز

وزیراعظم شہباز شریف کا جدید اے آئی پر مبنی پرائم منسٹر آفس سسٹم کا آغاز

اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی پرائم منسٹر آفس سسٹم (PMOS) کا باضابطہ افتتاح کر دیا، جس کا مقصد حکومتی امور کو جدید خطوط پر استوار کرتے ہوئے سرکاری نظام کو مکمل طور پر ڈیجیٹل بنانا ہے۔

اسلام آباد میں منعقدہ افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے متعلقہ وزارتوں اور اداروں کو ہدایت کی کہ نئے اے آئی سسٹم پر فوری اور مکمل عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اب روایتی فائلوں پر مشتمل دفتری نظام کی جگہ جدید ڈیجیٹل طریقہ کار اپنایا جائے گا۔

وزیراعظم نے کہا کہ یہ جدید پلیٹ فارم حکومتی نظم و نسق میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگا، جس کے ذریعے وزیراعظم کی جانب سے جاری کیے جانے والے تمام احکامات کو ریکارڈ، متعلقہ اداروں تک پہنچانے، ان پر عملدرآمد کی نگرانی اور پیش رفت کا جائزہ لینے کا عمل مؤثر انداز میں انجام دیا جا سکے گا۔

شہباز شریف نے سرکاری افسران کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آج کے بعد وہ کسی بھی اجلاس میں کسی کے ہاتھ میں کاغذی فائل دیکھنا نہیں چاہتے، کیونکہ تمام سرکاری امور اور فیصلے اسی ڈیجیٹل نظام کے ذریعے انجام دیے جائیں گے۔

انہوں نے وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ اور سیکریٹری آئی ٹی کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اس جدید نظام کی تیاری اور عملی نفاذ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

وزیراعظم نے تمام وزارتوں اور سرکاری اداروں پر زور دیا کہ وہ اس پلیٹ فارم کو اپنی دفتری سرگرمیوں کا حصہ بنائیں، کیونکہ اس سے حکومتی کارکردگی، شفافیت اور جوابدہی میں نمایاں بہتری آئے گی۔

تقریب کے دوران وزیراعظم کو اے آئی سے لیس اس نظام کے مختلف فیچرز اور مقاصد پر تفصیلی بریفنگ بھی دی گئی۔ انہیں بتایا گیا کہ PMOS پاکستان کا پہلا سرکاری پلیٹ فارم ہے جس میں مصنوعی ذہانت کو فیصلہ سازی اور حکومتی اقدامات کی نگرانی کے بنیادی جزو کے طور پر شامل کیا گیا ہے، جو وفاقی حکومت کی ڈیجیٹل تبدیلی کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ اس نظام کو اس انداز میں تیار کیا گیا ہے کہ وزیراعظم کی ہدایات تمام متعلقہ اداروں تک بروقت پہنچ سکیں اور ان پر مقررہ معیار کے مطابق عملدرآمد کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس کے علاوہ یہ پلیٹ فارم محفوظ ڈیجیٹل ماحول میں جدید تجزیاتی معلومات اور مربوط ڈیٹا کی مدد سے حکومتی فیصلوں میں بھی معاون ثابت ہوگا۔

حکام کے مطابق اس نظام کے ذریعے حکومت پالیسیوں کا مسلسل جائزہ لے سکے گی، جبکہ انسانی، مالی اور تکنیکی وسائل کو زیادہ مؤثر انداز میں استعمال کرتے ہوئے بہتر معاشی نتائج حاصل کرنے میں بھی مدد ملے گی۔

بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ حکومت اس اصلاحاتی ماڈل کا آغاز وزیراعظم آفس سے کر رہی ہے، جسے بعد ازاں مرحلہ وار دیگر سرکاری اداروں تک بھی توسیع دی جائے گی۔ اس پلیٹ فارم میں وزیراعظم کی جانب سے جاری ہونے والی ہر ہدایت اور اس پر ہونے والی پیش رفت کا مکمل ریکارڈ محفوظ رہے گا، جس سے ادارہ جاتی یادداشت مضبوط ہوگی اور حکومتی فیصلوں کا مستقل ڈیجیٹل ریکارڈ بھی دستیاب رہے گا۔

ٹیگز: