Get Alerts

انڈونیشیا: ماؤنٹ سیمیرو پھٹ پڑا، رہائشی محفوظ مقامات پر منتقل

انڈونیشیا: ماؤنٹ سیمیرو پھٹ پڑا، رہائشی محفوظ مقامات پر منتقل

جکارتہ:انڈونیشیا کے سب سے بلند پہاڑ ماؤنٹ سیمیرو میں بدھ کے روز زوردار آتش فانی پھٹنے کے بعد کئی دیہات پر راکھ کی تہہ چھا گئی اور مقامی باشندوں کو فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔سرکاری اطلاعات کے مطابق آتش فشاں نے گرم راکھ، نوکیلے پتھر، لاوا اور گیس کے بادل تقریباً سات کلومیٹر (4.3 میل) تک ڈھلوانوں پر بہائے۔ایک موٹی گیس کی کالی سفید چیڑھ دو کلومیٹر (1.2 میل) بلندی تک پہنچ گئی۔سرگرمی میں اچانک اضافہ قریبی آبادیوں کے لیے خطرے کی سطح بڑھا رہا ہے، تاہم اب تک کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

ضلع لوماجنگ کی تین حساس دیہاتوں سے 300 سے زائد افراد کو سرکاری پناہ گاہوں میں منتقل کیا گیا۔خطرے کے علاقے کو آٹھ کلومیٹر تک وسیع کر دیا گیا اور شہریوں کو بیسک کبو کون دریا کی وادی سے دور رہنے کی ہدایت دی گئی، کیونکہ یہ لاوے اور گرم گیس کے بہاؤ کا مرکزی راستہ ہے۔

پہاڑ کی شمالی ڈھلوان پر قائم رانو کومبولو مانیٹرنگ پوسٹ پر 178 افراد پھنسے ہوئے ہیں، جن میں کوہ پیما، پورٹرز، گائیڈز اور سیاحتی اہلکار شامل ہیں۔پارک انتظامیہ کے مطابق، تمام افراد فی الحال محفوظ ہیں کیونکہ لاوے کا بہاؤ جنوبی اور جنوب مشرقی سمت میں ہے، تاہم خراب موسم کی وجہ سے ان کی واپسی مؤخر کر دی گئی ہے۔ماؤنٹ سیمیرو جاوا جزیرے کی بلند ترین چوٹی ہے اور گزشتہ دو صدیوں میں کئی بار پھٹ چکا ہے۔

دسمبر 2021 میں بڑے دھماکے میں 50 سے زیادہ افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے، جبکہ ہزاروں مکانات راکھ اور مٹی میں دب گئے تھے۔انڈونیشیا بحرالکاہل کی مشہور “رِنگ آف فائر” پر واقع ہے، جس کی وجہ سے یہ ملک زلزلوں اور آتش فشانی سرگرمیوں کے لیے بار بار خطرے میں رہتا ہے۔

ٹیگز: