اسلام آباد: پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما طلال چوہدری نے موجودہ سیاسی حالات پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں وزیراعلیٰ کی تبدیلی عوامی مسائل کے حل کے لیے نہیں، بلکہ محض سیاسی مجبوریوں کے تحت کی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ "وزیراعلیٰ بدلنے سے یہ جنگ نہیں رکے گی"، اشارہ غالباً دہشت گردی یا گورننس بحران کی طرف تھا۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے طلال چوہدری نے کہا کہ پچھلے وزیراعلیٰ نے کبھی عوامی مسائل پر بات نہیں کی اور نہ ہی صوبے میں بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ "وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا دہشت گردی کے خلاف جنگ میں غیر سنجیدہ نظر آتے ہیں"۔
فلسطینی عوام سے اظہار یکجہتی کے لیے ہونے والے حالیہ مارچز پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ "غزہ کے لیے مارچ کرنے والوں کا ایک بھی مطالبہ غزہ سے متعلق نہیں تھا"، جو مظاہروں کے حقیقی مقصد پر سوالیہ نشان اٹھاتا ہے۔
مزید برآں، طلال چوہدری نے بعض سیاسی شخصیات پر مالی بے ضابطگیوں کا الزام بھی عائد کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ "جتنی برانڈڈ گھڑیاں ان کے گھروں سے ملی ہیں، اتنی تو توشہ خانہ میں بھی نہیں ہیں"۔
تحریک لبیک پاکستان (TLP) کی قیادت پر سنگین الزامات لگاتے ہوئے انہوں نے انکشاف کیا کہ پارٹی کے 100 بینک اکاؤنٹس کی نشاندہی ہوئی ہے، جن سے کروڑوں روپے سالانہ سود کی مد میں وصول کیے جا رہے ہیں۔
طلال چوہدری کے یہ بیانات نہ صرف سیاسی درجہ حرارت بڑھا سکتے ہیں بلکہ مختلف حلقوں میں بحث و مباحثے کو بھی جنم دے سکتے ہیں۔