Get Alerts

بھارت کو عبرتناک جواب دیا، مسئلہ کشمیر کو حل کیے بغیرامن ممکن نہیں، وزیراعظم شہباز شریف کا لندن میں اوورسیز پاکستانی کنونشن سے خطاب

بھارت کو عبرتناک جواب دیا، مسئلہ کشمیر کو حل کیے بغیرامن ممکن نہیں، وزیراعظم شہباز شریف کا لندن میں اوورسیز پاکستانی کنونشن سے خطاب

لندن :  وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان نے 10 مئی 2025 کو دشمن کو ایسا سبق سکھایا جو وہ زندگی بھر نہیں بھولے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ مسئلہ کشمیر کو حل کیے بغیر پاک-بھارت تعلقات قائم نہیں ہو سکتے۔ وزیراعظم نے یہ بات لندن میں اوورسیز پاکستانی کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہی، جہاں اُن کے ہمراہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور وزیر دفاع خواجہ آصف بھی موجود تھے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے خطاب میں اوورسیز پاکستانیوں کو ملک کی معیشت کا ستون قرار دیتے ہوئے کہا کہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں نے پاکستان کی معیشت کو سہارا دینے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ صرف رواں برس اوورسیز پاکستانیوں نے 48.5 ارب ڈالر پاکستان بھیجے، جو ملکی تاریخ کی ایک ریکارڈ ترسیل ہے۔

 وزیراعظم نے پاک-بھارت حالیہ جھڑپوں کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ بھارت کی جانب سے 6 مئی 2025 کو پاکستان پر حملہ کیا گیا جس میں معصوم شہریوں، مساجد اور عوامی مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ"ہم پر جھوٹے الزامات لگائے گئے کہ پہلگام واقعے میں پاکستان ملوث ہے، حالانکہ ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں۔ ہم نے شفاف تحقیقات کے لیے بین الاقوامی کمیٹی بنانے کی پیشکش کی، لیکن بھارت نے کوئی جواب نہ دیا۔"
انہوں نے مزید بتایا کہ حملے کے بعد پاکستان نے دفاعی کارروائی کرتے ہوئے دشمن کے چھ جنگی طیارے مار گرائے اور دشمن کو چند گھنٹوں میں اندازہ ہو گیا کہ پاکستان کسی بھی جارحیت کا مؤثر جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔

وزیراعظم نے پاک فضائیہ اور فوج کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا "فیلڈ مارشل نے فوراً رابطہ کیا اور کہا کہ ہمیں اجازت دیں تاکہ ہم دشمن کو وہ سبق سکھائیں جو وہ زندگی بھر یاد رکھے گا۔ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کی قیادت میں ہماری فضائیہ نے شاندار کارکردگی دکھائی۔"
وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے خطاب میں مسئلہ کشمیر پر دوٹوک مؤقف اپناتے ہوئے کہا "اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ کشمیر کے بغیر پاکستان اور بھارت کے تعلقات بہتر ہو سکتے ہیں، تو وہ احمقوں کی جنت میں رہتا ہے۔" انہوں نے کہا کہ پاکستان برابری کی بنیاد پر بھارت سے بات چیت چاہتا ہے، لیکن کشمیر کے بغیر امن ممکن نہیں۔

اپنے خطاب کے دوران وزیراعظم نے بیرونِ ملک پاکستانیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ "اوورسیز پاکستانی ہمارے وہ سفیر ہیں جو پاکستان کے لیے دن رات محنت کرتے ہیں۔ اگر انہیں سونے اور جواہرات میں تولا جائے تب بھی کم ہے۔"
انہوں نے کہا کہ حکومت اوورسیز پاکستانیوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے مکمل سنجیدہ ہے اور عالمی سطح پر بھی ان کی آواز بن کر ابھرے گی۔

 وزیراعظم نے غزہ میں جاری ظلم پر بھی گفتگو کی اور بتایا کہ اب تک 64 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینیوں کو کھانا، پانی اور ادویات تک میسر نہیں، اور پاکستان ہر عالمی فورم پر ان کے حق میں آواز بلند کرتا رہے گا۔نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا خطاب
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 2022 میں جب شہباز شریف نے حکومت سنبھالی تو ملک دیوالیہ ہونے کے دہانے پر تھا۔ انہوں نے کہا "وزیراعظم کی قیادت میں ہم نے ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچایا، آج مہنگائی 38 فیصد سے کم ہو کر 5 فیصد پر آ چکی ہے۔"
انہوں نے مزید کہا کہ 10 مئی کو پاکستان نے نہ صرف اپنی خودمختاری کا دفاع کیا بلکہ بھارت کے تمام جھوٹے بیانیے بھی خاک میں ملا دیے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان آج دنیا کے سفارتی نقشے پر اپنا مقام حاصل کر چکا ہے۔

وزیر دفاع خواجہ آصف کا خطاب
وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ حکومت میں آنے کے بعد بے شمار مشکلات کا سامنا تھا، لیکن وزیراعظم اور ان کی ٹیم نے دن رات محنت سے حالات کو سنبھالا۔ انہوں نے بھارت کو دی گئی شکست کو "عبرتناک" قرار دیتے ہوئے کہا "ایسی فتح کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ پاکستان کی سالمیت اور قومی مفاد ہمارے لیے اولین ترجیح ہے۔"
انہوں نے ترسیلات زر کو پاکستان کی "لائف لائن" قرار دیا اور پاکستان و سعودی عرب کے دفاعی معاہدے کو خوش آئند قرار دیا۔

ٹیگز: