Get Alerts

فوج کا ریلیف آپریشن جاری، خیبرپختونخوا میں سیلاب سے 393 افراد جاں بحق، متعدد زخمی

فوج کا ریلیف آپریشن جاری، خیبرپختونخوا میں سیلاب سے 393 افراد جاں بحق، متعدد زخمی

اسلام آباد: خیبرپختونخوا میں شدید سیلاب سے اب تک 393 افراد جاں بحق اور 190 زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ ایک ہزار 711 گھر متاثر اور 565 مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں۔ ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے اسفند یار خٹک نے بتایا کہ صوبے میں سیلاب متاثرین کی امدادی سرگرمیاں اور پاک فوج کا ریلیف آپریشن جاری ہے۔

مشیر اطلاعات خیبرپختونخوا بیرسٹر سیف، ڈی جی پی ڈی ایم اے اسفند یار خٹک اور ڈی جی ریسکیو طیب عبداللہ نے مشترکہ پریس کانفرنس میں بتایا کہ سیلاب متاثرین کے لیے مالی امداد میں اضافہ کر کے فی کس 10 لاکھ روپے کر دیے گئے ہیں۔ وزیراعلیٰ کی جانب سے 15 ہزار روپے کا فوڈ پیکج بھی تقسیم کیا جا رہا ہے، جس کا آغاز باجوڑ سے کیا گیا ہے اور اگلے ہفتے دیگر اضلاع میں تقسیم جاری رہے گی۔

ڈی جی پی ڈی ایم اے نے کہا کہ بونیر کو 70 کروڑ روپے اور فوڈ پیکج کی تقسیم کے لیے 20 کروڑ روپے نجی کمپنی کو دیے جا چکے ہیں۔ یہ امدادی رقم متاثرین تک حادثے کے صرف دس دن بعد پہنچنا شروع ہو گئی ہے، جو صوبے کی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت ہے۔

ڈی جی ریسکیو طیب عبداللہ نے بتایا کہ خیبرپختونخوا کے متعدد علاقے سیلاب سے شدید متاثر ہوئے ہیں اور 15 افراد تاحال لاپتہ ہیں۔ بونیر میں سیلابی ریلے میں 335 افراد بہہ گئے تھے، جبکہ صوابی میں کلاؤڈ برسٹ کے بعد ریسکیو آپریشن مکمل کر لیا گیا ہے اور بونیر میں ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کھدائی کے دوران پانچ بچوں کو زندہ نکالا گیا ہے۔

پاک فوج کا بونیر، سوات، شانگلہ اور صوابی میں فلڈ ریلیف آپریشن آٹھویں روز بھی جاری ہے، اور کور آف انجینئرز کے دستے راستے کھولنے اور ملبے ہٹانے میں مصروف ہیں۔ فوج کی امدادی سرگرمیاں سیلاب زدگان کی بحالی اور ریسکیو کے لیے جاری رہیں گی۔

مزید برآں، ملک کے مختلف علاقوں میں 27 اگست تک بارشوں کی پیشگوئی کی گئی ہے، جس سے سیلاب متاثرہ علاقوں میں احتیاط کی ضرورت ہے۔