Get Alerts

پی ٹی آئی کے جیل سے متعلق الزامات، عالمی میڈیا میں حکومتی مؤقف کی تائید

پی ٹی آئی کے جیل سے متعلق الزامات، عالمی میڈیا میں حکومتی مؤقف کی تائید

اسلام آباد(جاوید بلوچ) پاکستان سمیت دنیا بھر کے مؤقر میڈیا اداروں کی حالیہ رپورٹس میں بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان سے متعلق الزامات اور حکومتی مؤقف سامنے آگیا۔

امریکی جریدے دی واشنگٹن پوسٹ میں شائع ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ کے مطابق پاکستانی حکومت نے بانی پی ٹی آئی  کے اہلِ خانہ اور پی ٹی آئی کی جانب سے جیل میں مبینہ بدسلوکی، ذہنی اذیت، قیدِ تنہائی اور طبی غفلت کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ان الزامات کی تائید جیل اور طبی ریکارڈ سے نہیں ہوتی۔

رپورٹ کے مطابق وزارتِ اطلاعات نے مؤقف اختیار کیا کہ بانی پی ٹی آئی کو جیل میں بنیادی سہولیات اور اہلِ خانہ، وکلا اور ڈاکٹروں سے ملاقاتوں کی اجازت حاصل ہے۔ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق 2023 میں گرفتاری کے بعد سے عمران خان سے 900 سے زائد ملاقاتیں ہوچکی ہیں، جبکہ حکومت نے قیدِ تنہائی کے الزام کی بھی تردید کی ہے۔
حکومت نے طبی غفلت کے الزام کو بھی مسترد کرتے ہوئے بتایا کہ بانی پی ٹی آئی  کے متعدد طبی معائنے کیے گئے ہیں اور حکومتی مؤقف کے مطابق طبی ریکارڈ میں کسی فوری سنگین طبی مسئلے کی نشاندہی نہیں ہوئی۔
دوسری جانب بانی تحریک انصاف کے اہلِ خانہ اور پی ٹی آئی نے حکومتی مؤقف کو مسترد کیا ہے اور جیل میں ان کی صحت، طبی سہولیات اور عدالتی احکامات پر عملدرآمد سے متعلق اپنے تحفظات برقرار رکھے ہیں۔ حالیہ دنوں میں سپریم کورٹ نے عمران خان کے طبی معائنے اور اہلِ خانہ سے ملاقاتوں سے متعلق احکامات بھی جاری کیے تھے۔
رائٹرز کے مطابق پی ٹی آئی نے حکومت کی جانب سے بانی تحریک انصاف کو عدالتی حکم کے مطابق نجی ہسپتال منتقل نہ کیے جانے پر توہینِ عدالت کی درخواست بھی دائر کی ہے۔ حکومت نے نجی ہسپتال کے بجائے سرکاری ہسپتال منتقل کیے جانے کی وجہ سکیورٹی خدشات کو قرار دیا ہے۔

ٹیگز: