واشنگٹن : امریکا نے بین الاقوامی پانیوں میں ایک اور وینزویلا کے تیل بردار جہاز کو تحویل میں لے لیا ہے، جو رواں ماہ ضبط کیا جانے والا تیسرا آئل ٹینکر ہے۔ برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی) کے مطابق، وینزویلا کے حکام کا کہنا ہے کہ یہ جہاز خالی تھا اور وینزویلا واپس جا رہا تھا کہ امریکی حکام نے اسے اپنی تحویل میں لے لیا۔
وینزویلا نے اس کارروائی کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے، جبکہ امریکا کے حکام نے کہا ہے کہ یہ کارروائی وینزویلا پر عائد پابندیوں کے تحت کی گئی ہے۔ امریکا نے وینزویلا کے خلاف اپنے دباؤ کو مزید بڑھانے کی حکمت عملی کے تحت اس اقدام کو ایک حصہ سمجھا ہے۔
اس کے ساتھ ہی امریکا نے وینزویلا کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کی تیاری کے تحت اپنی عسکری سرگرمیوں میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ مرسیڈیٹا ہوائی اڈے پر امریکی فوجی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں، جہاں امریکی فوجی بحری بیڑے کی تیاریوں میں مصروف ہیں، اور ایک سپر اسٹالین ہیلی کاپٹر کی اڑان بھی ریکارڈ کی گئی ہے۔
امریکا نے کیریبین کے علاقے میں اپنے طیارہ بردار بحری جہاز، جنگی بحری جہاز، جدید لڑاکا طیارے اور ہزاروں فوجیوں کو تعینات کر دیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کئی بار یہ کہا ہے کہ وینزویلا میں ممکنہ زمینی فوجی کارروائی کو مکمل طور پر مسترد نہیں کیا جا سکتا، جس سے خطے میں کشیدگی اور بڑھ گئی ہے۔
سیاسی اور دفاعی ماہرین کے مطابق، امریکا کی حالیہ بحری اور فضائی نقل و حرکت وینزویلا کے ساتھ ممکنہ بڑے تصادم کی جانب اشارہ کر رہی ہے۔ اس صورتحال نے عالمی برادری کی توجہ اپنی طرف مبذول کر لی ہے، کیونکہ وینزویلا کے ساتھ امریکا کی بڑھتی ہوئی کشیدگی خطے میں غیر معمولی اثرات پیدا کر سکتی ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز بھی امریکا نے وینزویلا کے ساحل کے قریب ایک تیل بردار جہاز کو قبضے میں لیا تھا، جو دونوں ممالک کے درمیان تنازع کی شدت کو مزید بڑھا رہا ہے۔