Get Alerts

واشنگٹن میں طویل عرصے سے جاری "انڈیا فرسٹ" سوچ اختتام پذیر، : پاکستان امریکہ کا نیا سٹریٹجک ستون بن گیا

 واشنگٹن میں طویل عرصے سے جاری

 واشنگٹن/اسلام آباد : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں 2025 کے دوران پاکستان کے حوالے سے امریکی پالیسی میں ایک حیران کن اور تیز رفتار تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے۔ سال کے آغاز پر جس پاکستان کو واشنگٹن میں ایک غیر معتبر، سفارتی طور پر تنہا اور محدود اسٹریٹجک قدر رکھنے والا ملک سمجھا جا رہا تھا، وہی ملک اب امریکی خارجہ پالیسی میں ایک اہم شراکت دار کے طور پر ابھر آیا ہے۔

جنوری 2025 میں امریکی پالیسی ساز حلقوں کا خیال تھا کہ پاکستان طالبان کے قریب  اور انسداد دہشت گردی میں غیر سنجیدہ ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کی معیشت بھی بیرونی مالی امداد پر انحصار کر رہی تھی۔ ایسے میں امریکہ کی توجہ واضح طور پر بھارت پر مرکوز تھی، جسے انڈو پیسیفک حکمت عملی کا مرکزی ستون سمجھا جا رہا تھا۔
تاہم وقت کے ساتھ ساتھ بھارت کی اندرونی سیاست، شہری آزادیوں پر قدغنوں، سفارتی سخت رویے اور فوجی کارکردگی سے متعلق سوالات نے واشنگٹن میں تشویش پیدا کی۔ اسی دوران پاکستان اور امریکہ کے درمیان پس پردہ انسداد دہشت گردی تعاون میں بہتری آنا شروع ہوئی، جس نے تعلقات میں برف پگھلانے کا کردار ادا کیا۔

مارچ 2025 میں صدر ٹرمپ کی جانب سے ایک قومی خطاب میں پاکستان کی تعریف نے امریکی پالیسی حلقوں کو چونکا دیا۔ اس کے بعد اسلام آباد کی جانب سے تعاون کے مزید اشارے سامنے آئے، جس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے تعلقات ایک نئے، نسبتاً مثبت دور میں داخل ہو گئے۔ واشنگٹن میں پاکستان کو اب ایک  لچکدار اور کارآمد  شراکت دار کے طور پر دیکھا جانے لگا۔

مئی 2025 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی مختصر مگر شدید جھڑپ نے اس تاثر کو مزید تقویت دی۔ اطلاعات کے مطابق اس تنازعے میں پاکستان کی فوجی نظم و ضبط اور حکمت عملی نے امریکی قیادت کو حیران کر دیا، جس کے بعد پاکستان کو دوبارہ ایک سنجیدہ علاقائی طاقت کے طور پر تسلیم کیا جانے لگا۔

اسی تناظر میں پاکستان کی عسکری قیادت میں اصلاحات اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی بڑھتی ہوئی عالمی حیثیت نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ صدر ٹرمپ اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے درمیان قریبی رابطوں نے تعلقات کو نئی جہت دی، جس کا مظہر وائٹ ہاؤس میں ہونے والی تاریخی ملاقات اور بعد ازاں امریکی سینٹرل کمانڈ کے دورے کی صورت میں سامنے آیا۔

امریکی ثالثی سے جنگ بندی پر بھارت کے سرد ردعمل اور پاکستان کے مثبت رویے نے بھی واشنگٹن میں دونوں ممالک کے بارے میں سوچ بدلنے میں کردار ادا کیا۔ نتیجتاً پاکستان کو ایران سے رابطے، مشرق وسطیٰ کی سفارت کاری اور چین کے اثر و رسوخ کے توازن کے لیے ایک اہم کھلاڑی کے طور پر دیکھا جانے لگا۔

2026 کے آغاز پر پاکستان صدر ٹرمپ کی جنوبی ایشیا اور مشرقِ بعید سے متعلق حکمت عملی کے مرکز میں نظر آتا ہے۔ اگرچہ یہ تبدیلی مستقل ہوگی یا نہیں، اس کا انحصار مستقبل میں بھارت اور پاکستان کے رویوں پر ہے، تاہم 2025 میں پاکستان کی جغرافیائی اور سفارتی حیثیت میں آنے والی یہ تبدیلی امریکی پالیسی اور خطے کے توازن پر گہرے اثرات چھوڑ چکی ہے۔

ٹیگز: