اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں انڈس روبوٹکس اینڈ آٹونومس سسٹمز ایکسپو 2026 کا افتتاح کر دیا، اس موقع پر انہوں نے کہا کہ یہ نمائش اس عزم کی عکاس ہے کہ پاکستان مستقبل کی اہم ٹیکنالوجیز میں نمایاں مقام حاصل کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ روبوٹکس اور خودکار نظام (آٹونومس ٹیکنالوجیز) دنیا کے مختلف شعبوں میں نمایاں تبدیلیاں لا رہے ہیں، بالخصوص زراعت کے شعبے میں یہ ٹیکنالوجیز کسانوں کو فصلوں کی صورتحال جانچنے، پانی، کھاد اور زرعی ادویات کے بہتر استعمال اور موسمیاتی تبدیلیوں سے پیدا ہونے والے مسائل سے نمٹنے میں مدد فراہم کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جدید خودکار نظام قدرتی آفات کے دوران بھی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، کیونکہ ان کی مدد سے متاثرہ علاقوں تک رسائی بہتر بنائی جا سکتی ہے اور امدادی سرگرمیوں کو مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔
وزیراعظم نے پاکستان کی مقامی ٹیکنالوجی کے میدان میں پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک نے دفاع اور سیکیورٹی کے شعبوں میں خودکار صلاحیتوں کے حوالے سے نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں مسلح افواج نے ملک میں تیار کی جانے والی جدید ٹیکنالوجیز کو کامیابی سے اپنایا ہے۔
شہباز شریف نے بتایا کہ پاکستان میں کئی جدید سمیولیٹرز مکمل طور پر تیار اور اسمبل کیے جا رہے ہیں، جبکہ ڈرون ٹیکنالوجی میں مقامی تیاری کا تناسب 60 فیصد سے تجاوز کر چکا ہے۔
انہوں نے سائنسدانوں، انجینئرز، ٹیکنالوجی ماہرین اور دیگر پیشہ ور افراد کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی کوششوں سے پاکستان کی تکنیکی صلاحیتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔
وزیراعظم نے معرکہ حق کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دنیا نے دیکھا کہ پاکستان نے جدید خودکار نظاموں کو مؤثر انداز میں استعمال کرتے ہوئے اپنی زمینی اور سائبر سرحدوں کا دفاع کیا۔
انہوں نے زور دیا کہ ملک کی جامعات، تحقیقی ادارے، اسٹارٹ اپس، صنعتیں اور زرعی شعبہ مل کر ایک مضبوط قومی جدت طرازی کا نظام تشکیل دیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان میں تیار ہونے والی ٹیکنالوجی اور علمی صلاحیتیں مقامی، قومی ملکیت میں اور مسلسل ترقی کے عمل میں رہنی چاہئیں۔
انہوں نے کہا کہ روبوٹکس اور آٹونومس سسٹمز کا انقلاب کسانوں، چھوٹے کاروبار کرنے والوں، خواتین کاروباری شخصیات، نوجوان جدت کاروں اور معاشرے کے کم سہولت یافتہ طبقات کے لیے فائدہ مند ثابت ہونا چاہیے۔
شہباز شریف نے خودکار ٹیکنالوجیز کے محفوظ اور ذمہ دارانہ استعمال کے لیے واضح قوانین اور اخلاقی ضوابط بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا تاکہ یہ نظام محفوظ، شفاف اور انسانیت کی بہتری کے لیے استعمال کیے جا سکیں۔
تقریب کے دوران وزیراعظم نے ملک میں جدت اور ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے دو بڑے منصوبوں کا اعلان بھی کیا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت اسپارک اینڈ ایلیویٹ پروگرام شروع کر رہی ہے، جس کا مقصد تحقیق کو عالمی معیار کی ٹیکنالوجیز، کاروباری منصوبوں اور معیاری روزگار کے مواقع میں تبدیل کرنا ہے۔
وزیراعظم نے پاکستان وینچر فنڈ کے قیام کا بھی اعلان کیا، جس کے لیے ابتدائی طور پر 20 ملین ڈالر مختص کیے جائیں گے، تاکہ پاکستان کے ٹیکنالوجی شعبے میں سرمایہ کاری کو فروغ دیا جا سکے۔