نیویارک: پاکستان نے شام میں دیرپا امن، استحکام، مفاہمت اور تعمیر نو کے لیے عالمی برادری سے تعاون بڑھانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ عبوری انصاف ملک میں امن کے قیام کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے تحت شام میں عبوری انصاف اور لاپتہ افراد کے معاملے پر ہونے والے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ عبوری انصاف شام میں مفاہمت، بحالی اور امن سازی کے عمل کے لیے ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ شام کے عوام کی خواہشات پر مبنی جامع حکمت عملی ملک میں زخموں پر مرہم رکھنے، اعتماد بحال کرنے اور سماجی ہم آہنگی کو مضبوط بنانے میں مدد دے سکتی ہے۔
شام میں 14 سالہ خانہ جنگی کے بعد دسمبر 2024 میں بشار الاسد حکومت کا خاتمہ ہوا، جس کے بعد ملک سیاسی اور سماجی تبدیلیوں کے دور سے گزر رہا ہے۔
اجلاس میں کولمبیا اور ڈنمارک کے علاوہ سلامتی کونسل کے غیر مستقل رکن ممالک لکسمبرگ اور شام نے بھی شرکت کی۔
اقوام متحدہ کی رپورٹس کے مطابق سابق صدر بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد شام کی نئی قیادت نے عالمی برادری سے روابط میں اضافہ کیا ہے، ماضی کے جرائم کے احتساب کا عزم ظاہر کیا ہے اور حکومتی اصلاحات کا عمل شروع کیا ہے۔
سفیر عاصم افتخار احمد نے شامی حکومت کی جانب سے عبوری انصاف اور لاپتہ افراد سے متعلق قومی کمیشنز کے قیام سمیت دیگر اقدامات کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات تنازع کے اثرات سے نمٹنے اور متاثرین و ان کے خاندانوں کی جائز توقعات پوری کرنے کے لیے اہم ہیں۔
پاکستانی مندوب نے زور دیا کہ شامی اداروں اور متعلقہ عالمی میکانزم کے درمیان مؤثر تعاون سچائی کے حصول، انصاف کی فراہمی اور احتساب کے عمل کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ شام نے طویل عرصے تک تباہ کن تنازع اور شدید مشکلات کا سامنا کیا ہے، اب عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ ملک میں پائیدار امن، استحکام، مفاہمت اور تعمیر نو کے لیے جاری کوششوں کی حمایت کرے۔