Get Alerts

ایران اسرائیل جنگ میں ٹرمپ شامل ،امریکہ نے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملہ کردیا

ایران اسرائیل جنگ میں ٹرمپ شامل ،امریکہ نے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملہ کردیا

تہران : امریکہ نے مذاکرات کے دوران ایران کی جوہری تنصیبات پر حملہ کر دیا، جس کے بعد خطے میں شدید کشیدگی پیدا ہو گئی ہے۔ امریکی حکام کے مطابق، امریکی بی ٹو بمبار طیاروں نے ایران کے فردو جوہری پلانٹ پر بم گرائے، جس سے فردو مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔ مزید یہ کہ امریکی آبدوزوں نے ایران کے جوہری مقامات اصفہان اور نطنز کو ٹام ہاک میزائلوں سے نشانہ بنایا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر حملے کو ایک بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ نہ صرف امریکا بلکہ اسرائیل اور دنیا کے لیے بھی ایک تاریخی لمحہ ہے۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران اب جنگ کے خاتمے پر رضامند ہو جائے گا اور دنیا میں کوئی اور فوج ایسی کارروائی نہیں کر سکتی تھی۔

امریکی حملوں کی تصدیق ، ایران کا آبنائے ہرمز بند، امریکی اثاثوں کو نشانہ بنانے کا اعلان

دوسری جانب، ایران نے امریکی حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے آبی راستوں کی بندش اور جوابی کارروائی کی دھمکی دی ہے۔ ایرانی حکام نے کہا ہے کہ امریکا کو اس کارروائی کی قیمت ادا کرنی ہوگی۔ پاسداران انقلاب نے اعلان کیا کہ مشرق وسطی میں موجود تمام امریکی اثاثے ان کے حملے کا ہدف ہوں گے اور یورپی یونین کا کوئی بحری بیڑہ یورپ نہیں پہنچ سکے گا۔

ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا بھی عندیہ دیا ہے، جو کہ عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے ایک اہم راستہ ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ اب خطے میں موجود ہر امریکی شہری یا فوجی ان کے حملوں کا ہدف بنے گا۔

امریکہ کو ایران سے  کہیں زیادہ  نقصان ہوگا: خامنہ ای

ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے ٹیلی گرام پر پوسٹ کیا ہے کہ امریکا جنگ میں اپنے نقصان کیلئےداخل ہوگیا، امریکا کو پہنچنے والا نقصان ایران سے کہیں زیادہ ہوگا۔

امریکی حملےسے  قبل جوہری تنصیبات خالی کروا دی گئیں تھیں ، ایران

  ایرانی حکام نے تصدیق کی ہے کہ امریکہ کے حملے سے قبل ایران کی تین جوہری تنصیبات فردو، نطنز اور اصفہان کو خالی کرا لیا گیا تھا، جس کی وجہ سے ان تنصیبات میں کوئی تابکاری اخراج یا بڑے نقصان کا خطرہ نہیں رہا۔

ایک ایرانی عہدیدار نے بتایا کہ دشمن کے فضائی حملے فردو جوہری سائٹ کو نشانہ بنانے کے لیے کیے گئے جبکہ نطنز اور اصفہان کے قریب بھی میزائل داغے گئے۔ عہدیدار نے مزید کہا کہ حملے کے وقت ان تنصیبات میں ایسا کوئی مواد موجود نہیں تھا جو تابکاری کے اخراج کا باعث بنے۔

ڈونلڈ ٹرمپ اور نیتن یاہو میں رابط، مزید حملوں کا ارادہ نہیں: امریکی ٹی وی
ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے کے بعدصدر ٹرمپ اور نیتن یاہو میں رابطہ ہوا جس میں امریکی صدر نے امید کا اظہار کیا کہ یہ حملے نئی سفارت کاری کی راہ ہموار کریں گے۔

امریکی ٹی وی  کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے  کہ امریکی صدرفی الحال مزید حملوں کا منصوبہ نہیں بنارہے ہیں، ایران پر حملے کے دوران اسرائیل امریکا سے مکمل رابطے میں تھا۔

انہوں نے اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نتن یاہو کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ایک ٹیم کی طرح کام کیا اور اسرائیل کے لیے بدترین خطرے کو مٹا دیا۔

سعودی حکام نے ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکی حملوں کے بعد کسی قسم کی تابکاری نہ پھیلنے کی تصدیق کردی

الجزیرہ کے مطابق سعودی عرب کے نیوکلیئر اور ریڈیولوجیکل ریگولیٹری کمیشن کا کہنا ہے کہ امریکا کی جانب سے ایران کی جوہری تنصیبات پر کیے گئے حملوں کے بعد سعودی عرب اور خلیجی ممالک کے ماحول میں کسی قسم کی تابکار اثرات کی موجودگی کا کوئی سراغ نہیں ملا۔

 امریکی فضائی حملے کے بعد قم اور فردو میں شہریوں کو کوئی خطرہ لاحق نہیں

 ایران نے امریکی فضائی حملے کے بعد قم شہر اور فردو جوہری تنصیب کے آس پاس کے علاقوں کے مکینوں کو کسی قسم کے تابکاری یا دیگر خطرات سے مبرا قرار دیا ہے۔ کرائسز مینجمنٹ کمیٹی اور قومی جوہری سلامتی مرکز نے مشترکہ طور پر تصدیق کی ہے کہ فردو کے گرد و نواح میں تابکاری کے کوئی شواہد نہیں ملے اور زیر زمین جوہری تنصیبات کو بھی کوئی نقصان نہیں پہنچا۔

قم سے تعلق رکھنے والے ایک ایرانی رکن پارلیمنٹ نے ابتدائی تحقیقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکی حملے کے نتیجے میں کوئی تابکاری پھیلاؤ نہیں ہوا اور جو نقصانات ہوئے وہ زیادہ تر سطحی نوعیت کے ہیں جنہیں جلد از جلد درست کیا جا سکتا ہے۔

ایرانی جوہری توانائی تنظیم نے بھی یقین دہانی کرائی ہے کہ جوہری تنصیبات کے آس پاس رہنے والے شہریوں کو کسی بھی قسم کا خطرہ لاحق نہیں۔ تنظیم نے کہا ہے کہ دشمنوں کی بدنیتی پر مبنی سازشوں کے باوجود ایران اپنی قومی جوہری صنعت کی ترقی کا عمل جاری رکھے گا، جو ملک کے جوہری شہداء کی قربانیوں کا نتیجہ ہے۔

امریکی صدر کا جرات مندانہ فیصلہ تاریخ بدل دے گا: نیتن یاہو

 اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے کو "تاریخ بدلنے والا فیصلہ" قرار دیا ہے۔ اپنے ویڈیو بیان میں نیتن یاہو نے صدر ٹرمپ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ "آج رات امریکا نے جو غیر معمولی طاقت دکھائی، وہ بے مثال ہے۔"

نیتن یاہو نے کہا کہ یہ حملہ نہ صرف ایران کے خطرناک جوہری پروگرام کو نشانہ بنانے کا ایک جراتمندانہ قدم تھا، بلکہ یہ فیصلہ آنے والے وقت میں مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔ ان کے بقول، "تاریخ گواہ ہوگی کہ صدر ٹرمپ نے دنیا کے سب سے خطرناک نظام کو، دنیا کے سب سے خطرناک ہتھیاروں سے محروم کرنے کے لیے اقدام کیا۔"

اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ وہ اور صدر ٹرمپ ہمیشہ کہتے ہیں کہ طاقت کے ذریعے ہی امن حاصل ہوتا ہے، اور آج رات اس نظریے پر عمل کیا گیا۔ انہوں نے ٹرمپ کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ ایک نئے تاریخی دور کی شروعات ہے۔

ادھر، وائٹ ہاؤس کے دو اعلیٰ عہدیداروں نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ حملے کے بعد صدر ٹرمپ اور وزیراعظم نیتن یاہو کے درمیان فون پر تفصیلی بات چیت ہوئی، جس میں دونوں رہنماؤں نے اس کارروائی کو "ضروری اور کامیاب" قرار دیا۔

حماس کی امریکہ کے ایران پر جوہری تنصیبات حملے کی شدید مذمت

 مزاحمتی تنظیم حماس نے امریکہ کی جانب سے ایران کی جوہری تنصیبات پر کیے گئے حالیہ حملوں کی سخت مذمت کی ہے۔ حماس نے ان حملوں کو "وحشیانہ جارحیت" قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یہ کشیدگی میں خطرناک اضافہ کر سکتے ہیں۔

حماس کے بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کا ایران پر حملہ بین الاقوامی قانون کی واضح خلاف ورزی ہے اور یہ عمل عالمی امن و سلامتی کے لیے ایک براہ راست خطرہ ہے۔ تنظیم نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ اس غیر قانونی حملے کی مذمت کرے اور خطے میں امن و استحکام کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کرے۔

ٹیگز: