تہران : مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے جہاں امریکہ اور اسرائیل نے مشترکہ طور پر ایران کی حساس ترین جوہری تنصیب 'نطنز' کو فضائی حملے کا نشانہ بنایا ہے۔ تہران نے اس حملے کی باضابطہ تصدیق کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
ایرانی جوہری توانائی ایجنسی کے مطابق نطنز کی تنصیب کو نشانہ بنایا گیا ہے، تاہم خوش قسمتی سے فی الحال کسی قسم کے تابکاری اثرات (Radiation) کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔ مقامی حکام کا کہنا ہے کہ اطراف کی آبادیوں کو بھی فی الحال محفوظ قرار دیا گیا ہے اور کسی بڑے انخلاء کی ضرورت پیش نہیں آئی۔
ایران نے اس حملے کو 'این پی ٹی' (NPT) معاہدے کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی نے کہا ہے کہ وہ صورتحال کا بغور جائزہ لے رہے ہیں، تاہم ابھی تک تابکاری کی سطح میں اضافے کے کوئی شواہد نہیں ملے۔روسی وزارتِ خارجہ نے اس حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے عالمی قوانین کے منافی قرار دیا ہے۔
واضح رہے کہ یہ ایران کی جوہری تنصیبات پر ہونے والا پہلا حملہ نہیں ہے۔ گزشتہ سال جون 2025 میں بھی امریکہ نے ایران کی تین اہم تنصیبات نطنز، فردو اور اصفہان کو نشانہ بنایا تھا، جس کے بعد خطے میں فوجی تناؤ میں غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا تھا۔