تہران/یروشلم : مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال انتہائی کشیدہ ہو گئی ہے جہاں امریکہ اور اسرائیل نے مل کر ایران پر بڑا حملہ کر دیا ہے۔ ایرانی دارالحکومت تہران سمیت اصفہان، قم، کرج اور کرمان شاہ زوردار دھماکوں سے گونج اٹھے ہیں۔ تہران کے مہر آباد ایئرپورٹ، یونیورسٹی روڈ اور جمہوری ایریا کو نشانہ بنایا گیا ہے جہاں دھویں کے بادل اٹھتے دیکھے گئے۔
اسرائیلی دفاعی حکام نے تصدیق کی ہے کہ یہ آپریشن امریکا کے ساتھ مل کر کیا جا رہا ہے، جس کی منصوبہ بندی مہینوں پہلے کی گئی تھی۔ اسرائیلی وزیرِ دفاع کے مطابق یہ ایک "پیشگی حملہ" ہے تاکہ اسرائیل کے خلاف خطرات کو ختم کیا جا سکے۔ اطلاعات کے مطابق ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ خامنہ ای کو تہران سے محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔حملے کے فوراً بعد ایران اور عراق نے اپنی فضائی حدود ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دی ہیں۔
اسرائیل بھر میں سکول بند، عوامی اجتماعات پر پابندی اور لوگوں کو گھروں سے کام کرنے کی ہدایت کر دی گئی ہے۔ مقبوضہ بیت المقدس میں خطرے کے سائرن بج رہے ہیں۔