واشنگٹن: امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ امریکا اب بھی ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے اور بات چیت کی پیشکش بدستور موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران امریکی صدر کے ساتھ چالاکی کرنے کی کوشش نہ کرے۔
ایک انٹرویو میں مارکو روبیو نے وضاحت کی کہ امریکا کا ایران کے ساتھ کوئی جنگی ارادہ نہیں، اور موجودہ اقدامات کے بعد دنیا گزشتہ 24 گھنٹوں کے مقابلے میں زیادہ محفوظ اور مستحکم ہو چکی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے جوابی حملہ کیا تو یہ اس کی بہت بڑی غلطی ہوگی۔
مارکو روبیو نے انکشاف کیا کہ ایران کے پاس اتنی مقدار میں انتہائی افزودہ یورینیم موجود تھی جس سے وہ 9 سے 10 ایٹمی ہتھیار بنا سکتا تھا، اور اس کے پاس جوہری ہتھیار بنانے کے تمام اجزاء بھی موجود تھے۔ تاہم، اب صورتحال تبدیل ہو چکی ہے اور ایران اس صلاحیت سے محروم ہو چکا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ چین کو چاہیے کہ وہ ایران سے آبنائے ہرمز کی صورتحال پر گفتگو کرے۔ روبیو نے یہ بھی کہا کہ موجودہ شواہد سے چین کے کسی براہ راست کردار کا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا۔