یروشلم/تہران: مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی نے اس وقت ہولناک رخ اختیار کر لیا جب ایران کی جانب سے داغے گئے بیلسٹک میزائلوں نے جنوبی اسرائیل کے شہر 'عراد' (Arad) کو نشانہ بنایا۔ اس اچانک اور شدید حملے کے نتیجے میں شہر لرز اٹھا، جس سے بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔
اسرائیلی میڈیا کی ابتدائی رپورٹس کے مطابق، حملے کے وقت شہر کے مرکزی علاقوں اور پارکوں میں متعدد شہری چہل قدمی میں مصروف تھے کہ اچانک سائرن بجنے لگے اور زوردار دھماکوں سے زمین دہل گئی۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ میزائل گرتے ہی کئی کثیر المنزلہ عمارتیں تاش کے پتوں کی طرح بکھر گئیں اور پورا علاقہ دھوئیں اور گرد و غبار میں اٹ گیا۔
طبی ذرائع اور ریسکیو اداروں نے اب تک کی کارروائیوں کے بعد درج ذیل اعداد و شمار کی تصدیق کی ہے۔اب تک 9 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے۔ 150 سے زائد افراد زخمی ہیں، جن میں سے درجنوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ شہر کے وسطی علاقے میں درجنوں عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن چکی ہیں جبکہ بجلی اور مواصلات کا نظام درہم برہم ہو گیا ہے۔
ماہرینِ خارجہ امور اس حملے کو محض دو ممالک کی جنگ نہیں بلکہ عالمی امن کے لیے ایک بڑا خطرہ قرار دے رہے ہیں۔ ایران کے اس اقدام نے ایشیا سے لے کر یورپ تک دفاعی حلقوں میں کھلبلی مچا دی ہے، اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ تنازع ایک وسیع علاقائی جنگ کی شکل اختیار کر سکتا ہے جس کے اثرات عالمی معیشت اور توانائی کی ترسیل پر براہِ راست پڑیں گے۔
نوٹ: یہ رپورٹ صارف کی فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔ بین الاقوامی آزاد ذرائع سے ان اعداد و شمار کی حتمی تصدیق کا عمل تاحال جاری ہے۔