Get Alerts

طالبان کے دورِ حکومت میں انسانی حقوق کی سنگین صورتحال: ایک سال میں 1200 افراد کو سرعام کوڑے مارے گئے

طالبان کے دورِ حکومت میں انسانی حقوق کی سنگین صورتحال: ایک سال میں 1200 افراد کو سرعام کوڑے مارے گئے

کابل: افغانستان میں طالبان حکومت کی جانب سے جسمانی سزاؤں کے نفاذ میں غیر معمولی تیزی آئی ہے۔ ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق، شمسی سال 1404 (مارچ 2025 سے مارچ 2026) کے دوران افغانستان کے مختلف صوبوں میں کم از کم 1,186 افراد کو سرعام کوڑے مارے گئے، جبکہ قصاص کے قانون کے تحت 6 افراد کو سرِ عام سزائے موت دی گئی۔
رپورٹ کے مطابق  طالبان کی سپریم کورٹ کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ کوڑے کھانے والوں میں 100 کے قریب خواتین بھی شامل تھیں۔ ان سزاؤں میں سے بیشتر عوامی مقامات پر دی گئیں تاکہ لوگوں میں خوف و ہراس پیدا کیا جا سکے۔ گزشتہ ایک سال میں 4 صوبوں (خوست، بادغیس، فراہ اور نیمروز) میں سرعام پھانسی اور فائرنگ کے ذریعے سزائیں دی گئیں۔ خوست کے ایک سپورٹس سٹیڈیم میں ہزاروں تماشائیوں، جن میں بچے بھی شامل تھے، کے سامنے ایک شخص کو موت کے گھاٹ اتارا گیا۔
طالبان نے "نظام کے خلاف پروپیگنڈا" اور اعلیٰ قیادت کی توہین پر بھی سخت سزائیں مقرر کی ہیں۔ صوبہ کاپیسا اور بادغیس میں شہریوں کو طالبان امیر کی شان میں گستاخی اور تنقید پر درجنوں کوڑوں کے ساتھ طویل قید کی سزائیں سنائی گئیں۔طالبان نے رواں سال ایک نیا ضابطہ فوجداری (Penal Code) بھی متعارف کرایا ہے، جسے عالمی سطح پر تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انسانی حقوق کے محققین کا کہنا ہے کہ یہ سزائیں بنیادی انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہیں اور ان سے معاشرے میں خوف کی فضا قائم ہو رہی ہے۔
عالمی دباؤ اور تنقید کے باوجود، طالبان حکام ان سزاؤں کا دفاع کرتے ہوئے انہیں "اسلامی شریعت کے نفاذ" کا لازمی حصہ قرار دے رہے ہیں۔ دوسری جانب، بین الاقوامی مبصرین کا ماننا ہے کہ ان اقدامات سے افغانستان عالمی سطح پر مزید تنہائی کا شکار ہو جائے گا۔عالمی مبصرین کاکہنا ہے کہ  افغانستان میں انسانی حقوق کے حوالےسے سنگین خدشات جنم لے رہے ہیں۔

ٹیگز: