اسلام آباد: پاکستانی شوبز انڈسٹری کے معروف اداکار فیروز خان، جو کہ اکثر تنازعات کا شکار رہتے ہیں، نے اپنی ذاتی زندگی کی وجہ سے ہونے والی تنقید کے اثرات کے بارے میں کھل کر بات کی ہے، اور انکشاف کیا کہ وہ ایک وقت میں اتنی ذہنی اور جسمانی پریشانیوں کا شکار ہوئے کہ موت کے قریب پہنچ گئے تھے۔
حال ہی میں ایک پوڈکاسٹ میں شرکت کے دوران فیروز خان نے اپنی پہلی شادی کے خاتمے اور اس کے بعد پیش آنے والی مشکلات کے بارے میں تفصیل سے بات کی۔ انہوں نے بتایا کہ طلاق کے بعد ان کی ذاتی زندگی کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا، جس کی وجہ سے وہ اتنے پریشان ہو گئے کہ ایک بار ٹوائلٹ میں بے ہوش ہو گئے تھے اور انہیں محسوس ہوا کہ وہ مرنے کے قریب ہیں۔
اداکار کا کہنا تھا کہ ان کی سب سے بڑی پریشانی یہ تھی کہ انہیں اپنے بچوں سے ملنے کی اجازت نہیں مل رہی تھی، اور ساتھ ہی عدالتی مقدمات اور الزامات کی وجہ سے ان کے کیریئر کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ وہ اس حد تک مایوس ہو گئے تھے کہ انہوں نے سوچا کہ شوبز چھوڑ کر درزی بن کر کپڑے بیچنے لگیں۔
فیروز خان نے اپنی والدہ کی دعاؤں کو اپنی زندگی کی سب سے بڑی طاقت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی والدہ کی پڑھی ہوئی آیت الکرسی نے ان کی زندگی میں بدلاؤ لایا اور اسی دعا کی بدولت وہ دوبارہ اٹھ کھڑے ہوئے۔
واضح رہے کہ فیروز خان کی پہلی شادی 2018 میں علیزا سلطان سے ہوئی تھی، جن سے 2022 میں طلاق ہو گئی تھی۔ اس دوران علیزا نے فیروز پر گھریلو تشدد کے الزامات عائد کیے تھے۔ 2022 کے آخر میں بچوں کی حوالگی کے مقدمے کے بعد فیروز نے 2024 میں ڈاکٹر زینب سے دوسری شادی کی۔