Get Alerts

جعلی ڈگری کیس میں جمشید دستی کو سات سال قید کی سزا کا سامنا

جعلی ڈگری کیس میں جمشید دستی کو سات سال قید کی سزا کا سامنا

ملتان :قومی اسمبلی کے سابق رکن جمشید دستی ایک بار پھر قانون کے شکنجے میں گرفتار ہو گئے ہیں۔ ملتان کی مقامی عدالت نے انہیں جعلی ڈگری کیس میں سات سال قید کی سزا سنائی ہے۔

این اے 175 مظفرگڑھ سے منتخب ہونے والے سابق ایم این اے پر الزام تھا کہ انہوں نے انتخابات میں حصہ لینے کے لیے اپنی تعلیمی اسناد جعلی طور پر جمع کروائیں۔ عدالت نے تمام شواہد اور دلائل سننے کے بعد جرم ثابت ہونے پر سزا سنائی۔

یاد رہے کہ الیکشن کمیشن نے بھی اسپیکر قومی اسمبلی کے ریفرنس پر جمشید دستی کو نااہل قرار دیا تھا۔ یہ مقدمہ کئی سال سے زیر سماعت تھا جس میں آج فیصلہ سنایا گیا۔

عدالت نے کہا کہ عوامی نمائندوں کا فرض ہے کہ وہ شفافیت کے تقاضے پورے کریں، اور اگر ایسا نہ کریں تو قانونی کارروائی لازمی ہوگی۔ دوسری جانب جمشید دستی نے سزا کو سیاسی انتقام قرار دیا ہے۔

اپنے سوشل میڈیا بیان میں انہوں نے کہا کہ یہ کارروائی مخالفین کی سازش ہے اور انہیں جان بوجھ کر انتخابی سیاست سے باہر رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے اور اپنی بےگناہی ثابت کرنے کا اعلان کیا ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق جمشید دستی کی سزا ان کے سیاسی مستقبل پر گہرے منفی اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ ایک وقت میں عوامی حمایت حاصل کرنے والے یہ رہنما اب قانونی مشکلات کی وجہ سے شدید دباؤ میں ہیں۔

ٹیگز: